’پیٹرول کے بحران کی وجہ اوگرا کی ناکامی بنی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان میں پیٹرول کے حالیہ بحران کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں تیل اور گیس کے نگران ادارے ’اوگرا‘ کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں پیٹرول کا بحران گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے اور اس دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس سے منگل کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے منگل کو بھی ملک میں پیٹرولیم کی قلت کے بارے میں ایک جائزہ اجلاس میں شرکت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ملک میں پیٹرولیم کی خریدوفروخت اور ترسیل کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا حکم دیا تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
اسی اجلاس میں بحران کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی دو رکنی کمیٹی نے اجلاس میں اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق پیٹرول کی قلت کی وجہ بطور نگران اوگرا کی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکامی بنی۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس میں پاکستان سٹیٹ آئل کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر سہیل بٹ کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا۔ بیان کے مطابق وہ بھی اس بحران کے ذمہ دار پائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ اعظم اس سے پہلے پی ایس او کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد جنجوعہ سمیت چار اعلیٰ افسران کو بھی معطل کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہother
معطل کیے جانے والے دیگر افسران میں سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید، ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم نعیم ملک اور ڈائریکٹر جنرل آئل ایم اعظم شامل ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پیٹرول کی قلت کی وجہ اس کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ بنی اور یہ بحران چند روز میں حل کر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ طلب 12,000 میٹرک ٹن تھی تاہم جنوری میں کھپت 15,000 میٹرک ٹن یومیہ تک پہنچ گئی۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی 30 فیصد اضافی کھپت کی پیش گوئی کوئی ادارہ نہیں کر سکتا۔
’جنوری میں 30 فیصد اضافی کھپت کا انتظام موجود نہیں تھا۔ یکم جنوری کو پاکستان میں 40 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کی فروخت ہوئی جو ایک ریکارڈ ہے اس سے پہلے پاکستان میں 16 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ پیٹرول فروخت نہیں ہوا۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ یکم فروری سے پیٹرولیم مصنوعات میں پانچ روپے کی مزید کمی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیٹرول کے بحران کی وجہ سے لاہور اور کراچی میں سی این جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔







