ٹریفک حادثے کا مقدمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے خلاف درج

ٹیڑھی بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنٹیڑھی بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک ہو گئے تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں منگل کی صبح پیش آنے والے ٹریفک حادثے کا مقدمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

شاہ حسین تھانے پر سرکار کی مدعیت میں دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی شاہراہ کی حالت کافی عرصے سے خراب ہے لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے غفلت برتی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ سڑکوں کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے حادثات معمول بن چکے ہیں حالیہ حادثہ بھی سڑک کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

ٹیڑھی بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ سکھر میں حادثے کے خلاف شمس راجپر نامی وکیل نے ایک آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی شاہراہ ایک بڑے عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس وجہ سے اس قسم کے خوفناک اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں۔

حادثہ سوات سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کو پیش آیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحادثہ سوات سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کو پیش آیا

انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے حادثے پر افسوس کا اظہار تو کیا ہے کہ لیکن لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا جائے اور غفلت اور لاپرواہی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عدالت نے آئی جی، ڈی آئی جی موٹر ویز اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کو نوٹس جاری کر کے 26 نومبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی درخواست پر سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے 47 افراد کی لاشیں رسالپور اور وہاں سے سوات اور مینگورہ پہنچائی گئی تھیں جبکہ 11 افراد کی میتیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کی گئیں۔