’اوباما یا مودی سے ملاقات طے نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی امریکی صدر یا بھارتی وزیرِاعظم سے ملاقات طے نہیں ہے۔
یہ بات دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں بتائی۔
اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے، چاہے وہ ملک کے اندر ہو یا ملک سے باہر ہو۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور ترقی کے لیے افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے تمام تنازعات بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
عراق اور شام میں دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حالیہ کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد اور دہشت گردی جہاں بھی ہو پاکستان اس کے خلاف ہے۔
پاکستانی اور بھارتی خارجہ سیکریٹریوں کی موجوزہ ملاقات کی منسوخی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتاہے تاکہ علاقے میں امن وامان قائم کر کے وسائل عوام کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیے جا سکیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں سیلاب متاثرین کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت کو امدادی سرگرمیوں میں مدد دینے کی پیش کش کی ہے۔
افغان صدرحامد کرزئی کی جانب سے حال ہی میں پاکستان پر لگائے جانے والے نئے الزامات کے بارے میں تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے افغانستان کی نومنتخب حکومت کے ساتھ مل کر سرحد کے دونوں اطراف دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پراقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
شمالی وزیرستان میں گذشتہ روز ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے بارے میں ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حدود میں اس طرح کے حملے بین الاقوامی قوانین کے سخت خلاف ہیں جس کے نتیجے میں بےگناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے ہمیشہ اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا ہے۔







