’چیف جسٹس کے خلاف الفاظ مایوسی کی کیفیت میں کہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی طرف سے ہتکِ عزت کے دعوے کے لیگل نوٹس کا جواب دیا ہے جس میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُنھوں نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کے خلاف الفاظ مایوسی اور احتجاج کی کیفیت میں کہے تھے۔
تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کی طرف سے کہے گئے الفاظ اُن کی نیت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پیر کے روز عمران خان نے اپنے وکیل حامد خان کی وساطت سے اس لیگل نوٹس کا جواب دیا ہے جس میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن اور عدالتوں کی طرف سے کسی سطح پر بھی انصاف نہیں مل رہا تھا اس لیے مایوسی کے عالم میں ایسے الفاظ کہے گئے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ جس قسم کی زبان استعمال کی گئی وہ مناسب نہیں تھی مگر پاکستان میں سیاسی جلسوں اور سیاسی پریس کانفرنسوں میں اس قسم کی زبان استعمال کرنے کا رواج بن گیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پاکستا ن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی میں ملوث ہونے اور مراعات حاصل کرنے کے الزامات عائد کرنے کے بعد عمران خان پر 20 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعوے کرتے ہوئے انھیں لیگل نوٹس بھجوایا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنے جواب میں سابق چیف جسٹس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام حالات میں جس طرح اُنھوں نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔
عمران خان نے افتخار محمد چوہدری کو پاکستان کی عوام کا غیر سیاسی لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی توقعات اُن کی قائدانہ صلاحیتیوں سے وابستہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری نے بطور چیف جسٹس جس طرح کے فیصلے دیے ہیں اُن کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے عدلیہ کو نہیں بلکہ عام انتِخابات میں ججوں کے بطور ریٹرنگ افسران کے کردار کو نتقید کا نشانہ بنایا تھا جن کی وجہ سے تحریک انصاف کو مبینہ طور پر دھاندلی کی وجہ سے 30 سے زائد قومی اور 50 سے زیادہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ہروایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







