تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکن مارچ کرکے ریڈ زون میں پارلیمان کے سامنے دھرنے دے رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعمران خان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل شام تک وزیرِ اعظم نواز شریف مستعفی نہیں ہوئے تو وہ وزیرِ اعظم ہاؤس جائیں گے۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کا ’انقلاب مارچ‘ طاہر القادری کی قیادت میں شاہراہ دستور پہنچ گیا ہے۔ آبپارہ چوک سے شاہراہ دستور تک پولیس کی جانب سے مارچ کے راستے میں کوئی رکاؤٹ نہیں ڈالی گئی۔
،تصویر کا کیپشنفوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ریڈ زون میں واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور ان عمارتوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے بعض کارکنوں نے ریڈ زون کی جانب مارچ شروع کرنے سے پہلے کشمیر ہائی وے پر درختوں کی شاخیں توڑ کر ڈنڈے تیار کیے۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تحمل اور برداشت سے کام لے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ ریڈ زون میں واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں۔ان عمارتوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے اور ان عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔
،تصویر کا کیپشن’انقلاب اور آزادی مارچ ‘ کے ساتھ ایک کرین بھی موجود تھے۔ اس کرین کی مدد سے راستے میں آنے والے کنٹینرز کو ہٹایا گیا۔