سول نافرمانی کا اعلان، وزیراعظم کو دو دن کی مہلت

ملک میں انتشار نہیں چاہتے کہ جس کے باعث فوج کو آنا پڑے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملک میں انتشار نہیں چاہتے کہ جس کے باعث فوج کو آنا پڑے: عمران خان

اسلام آباد میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے والے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کو مستعفیٰ ہونے کے لیے دو دن کی مہلت دی ہے۔

اتوار کی شب اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا اہم ترین خطاب ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر نوازشریف وزیر اعظم رہے تو پاکستان کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہو سکتا: ’یہ لوگ قرضے لے کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں اور قوم یہ قرضہ مہنگائی کی شکل میں ادا کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ’ہم سول نافرمانی کی مہم شروع کریں اور جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دیتے ہم ٹیکس نہیں دیں گے کیونگہ اگر ہم نے ٹیکس ادا کیا تو یہ کرپٹ حکمران اسے کھا جائیں گے۔‘

’آج سے میں نہ ٹیکس دوں گا، نہ بجلی اور گیس کے بل دوں گا۔ اگر آپ نے اپنے آپ کو اس بدعنوان وزیراعظم سے بچانا ہے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ سونامی وزیراعظم اور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ جائے کیونکہ بقول ان کے وزیراعظم سمیت پارلیمنٹ اور اس میں بیٹھے ہوئے لوگ جعلی مینڈیٹ پر آئے ہیں اور دوسرا یہ کہ سول نافرمانی شروع کی جائے۔

عمران خان نے اپنے کارکنان کو دو دن تک ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی بارہا ہدایت کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے اپنے کارکنان کو دو دن تک ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی بارہا ہدایت کی

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ وہ ملک میں انتشار نہیں چاہتے کہ جس کے باعث فوج کو آنا پڑے۔

عمران خان کی تقریر کے دوران مجمع میں موجود کارکنان نے سول نافرمانی کی تحریک پر اکتفا کرنے کی حمایت نہیں کی تو عمران خان نے پہلے وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونے کے لیے سات دن اور پھر کم کر کے دو دن کی مہلت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، اس لیے نوازشریف کو دو دن کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ استعفیٰ دے دیں، ورنہ کارکنان میرے بس میں نہیں رہیں گے۔‘

عمران خان کہنا تھا کہ نوازشریف اقتدار چھوڑ ریں ورنہ انھیں عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو عوام ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرے گی : ’نواز شریف سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے استعفیٰ دے کر اپنی اور میری زندگی آسان بنا دیں ورنہ دو دن بعد آپ جانیں اور میری قوم جانے۔‘

انھوں نے اپنے کارکنان کو دو دن تک ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی بارہا ہدایت کی اور کہا وہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار سے وعدہ کر چکے ہیں اور کارکن اس کا پاس کریں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر وزیرِ اعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو چوہدری نثار سے خود کہوں گا کہ اپنے کارکنان کو نہیں روک سکتا۔‘