پی ٹی آئی کے پرجوش کارکنان اور عمران کی مہلت

آزادی مارچ میں شریک نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے حکم کے انتظار میں بیٹھے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآزادی مارچ میں شریک نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے حکم کے انتظار میں بیٹھے ہیں
    • مصنف, نخبت ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے میں شریک لوگوں کو اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے پر ڈیرہ لگائے ہوئے آج چوتھا دن ہے۔

لوگوں سے بات کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ نواز حکومت آج ہی مستعفی ہو۔

عمران خان نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پہلے میاں نواز شریف کو سات دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا۔ مگر لوگوں نےہاتھ ہلا کر اور آوازیں دے کر اسے رد کر دیا جس کے بعد عمران خان نے تین دن اور پھر بالآخر دو دن کی مہلت کا اعلان کیا۔

لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے اور میاں نواز شریف کو ’سبق سکھانے‘ کے لیے تیار ہیں۔

پی ٹی آئی کے دھرنے پر نوجوانوں کا موڈ خاصا ’چارجڈ‘ ہے اور ایسے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔

ان نوجوانوں کا سوال ہے کہ پولیس کی اضافی نفری یہاں کیوں بلائی گئی ہے اور انھوں نے یہ بتایا کہ وہ ذہنی طور ہر مکمل تیار ہیں اور صرف عمران خان کے حکم کے انتظار میں ہیں۔

عمران خان کا آزادی مارچ لاہور سے شروع ہو کر اسلام آباد میں ختم ہوا جہاں انہوں نے ان دنوں دھرنا دے رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعمران خان کا آزادی مارچ لاہور سے شروع ہو کر اسلام آباد میں ختم ہوا جہاں انہوں نے ان دنوں دھرنا دے رکھا ہے

ایک نوجوان فیضان صدیقی نے بتایا کہ کہ وہ اور ان کے ساتھی آج پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے پر تیار ہیں اور وہ نواز شریف کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔

نوجوانوں میں پایا جانے والا غصہ، جوش اور ولولہ صاف ظاہر ہے اور جھنڈے اٹھائے عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے یہ نوجوان کہہ رہے ہیں کہ چار دن سے یہاں بیٹھے ہیں، آج فیصلہ ہو جانا چاہیے۔

ان کےمطابق نوازشریف نے جعلی مینڈیٹ لے کر آئین خود توڑا، اب اگر عمران خان نکلا ہے تو وہ سب ٹھیک کر لے گا اور آئین کو اب ہم مل کر جوڑیں گے۔

نوجوانوں کا کہنا ہےکہ ہم غریب لوگ ہیں ہمیں نوکریاں چاہیں، ہم اپنے پیسوں پر یہاں آئے ہیں۔ یہاں راتیں گزار رہے ہیں ہمیں کسی کی کوئی مدد نہیں مل رہی اور ہم نے اپنے سلنڈر رکھے ہوئے ہیں تھوڑے چاول پکا لیتے ہیں جو کھا لیتے ہیں یا چنے کھا لیتے ہیں۔ مگر بیٹھے ہیں عمران خان کے لیے، جب تک وہ کہے گا ہم بیٹھے رہیں گے۔

سفیر خان پشاور کے رہائشی ہیں۔ ان کے مطابق فائنل میچ کا مطلب ہے کہ آج ہمیں کوئی اہم اعلان سننے کو ملے گا۔ سفیر خان کے مطابق پورے دس دن یا آٹھ دن ہم تو نہیں رک سکتے، اس سے معیشت تباہ ہو رہی ہے۔

ہو سکتا ہے وہ ہمیں آج کہے کچھ فیصلہ ہونے والا ہے۔ ہم اس کا انتظار کریں گے۔ وہ ہمارا خان ہے جو حکم وہ کریں گے، ہم وہی کریں گے۔

عمران خان کے حامی نوجوانوں کا کہنا ہےکہ ہم مانتے ہیں کہ نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے مگر اب انھیں یہ سمجھ جانا چاہیے کہ آئین پہلے انھوں نے خود توڑا جعلی مینڈیٹ لے کر آنے سے آئین پہلے ہی پامال ہو چکا ہے۔ جو بچ گیا ہے اسے نوازشریف استعفیٰ دے کر ختم کریں تاکہ پھر ہم خود آئین جوڑیں۔