’فوج کو شہری سکیورٹی کا حصہ بنایا جائے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) نے ملک کے بڑے شہروں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت بنانے کے لیے فوج کو شہری حفاظتی دستوں کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
یہ تجویز جمعے کے روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں پیش کی گئی جس کی حتمی منظوری وزیراعظم نواز شریف دیں گے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ نیا سکیورٹی پلان ملک کے تمام بڑے شہروں کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
بڑے شہروں کے لیے بنایا گیا یہ نیا حفاظتی منصوبہ ایک ایسے وقت میں منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے جب طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو پا رہی۔
اس دوران پاکستانی فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بعض مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات کی تفصیل تو وزارت داخلہ کا معاملہ ہے لیکن ’یہ بات درست ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی گاڑی گہری دلدل میں پھنس چکی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک مذاکرات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن آثار اچھے نظر نہیں آ رہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ حال ہی میں چینی سائیکلسٹ کا اغوا اور اس کی ذمہ داری تحریک طالبان کی طرف سے قبول کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کا معاملہ کس سمت بڑھ رہا ہے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’طالبان ابھی تک امن کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کر سکے۔ ان کی جانب سے کوئی مطالبات بھی سامنے نہیں آ رہے۔ ایسے میں مذاکرات کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کسی بھی صورت میں اور کسی بھی دشمن کے خلاف اپنے شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ اس ذمہ داری سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہو سکتی۔
اس صورتحال کے پیش نظر بنائے گئے وزارت داخلہ کے حفاظتی منصوبے کے مطابق شہر کے داخلی راستوں، اہم مقامات اور چوراہوں پر فوجی اہلکاروں، رینجرز اور پولیس پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جنہیں مشکوک گاڑیوں کے علاوہ گھروں کی تلاشی کا اختیار بھی ہو گا۔ یہ ٹیمیں ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات موقعے پر ہی درج کرنے کی مجاز ہوں گی۔







