’افغانستان ضرورت سے زیادہ سخت رد عمل دکھا رہا ہے‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغانستان کی جانب سے سرحد پار فائرنگ کے خلاف بطور احتجاج فوجی دورہ منسوخ کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ افغانستان ضرورت سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کر رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان ایک کم نوعیت کے واقعے پر ضرورت سے زائد رد عمل دکھا رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان نے گیارہ افغان افسران کو جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں فوجی مشق میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔
تاہم افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے مبینہ توپوں کی ’شیلنگ‘ کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔
تاہم دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو باضابطہ طور پر اس دورے کی منسوخی کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں افغانستان کی جانب سے دراندازی ہو رہی تھی اور پاک فوج نے کارروائی کی۔
انھوں نے کہا ’پاکستانی فوج نے ایک چھوٹی سے کارروائی کی جس میں توپ خانے کا استعمال یا شیلنگ نہیں کی گئی۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کا اس بارے سے کہنا ہے کہ ’منظم اور ذمہ دار افواج‘ نے افغانستان کی طرف سے کچھ دراندازیوں کے جواب میں کارروائی کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل مشرقی افغان صوبہ کنڑ کے گورنر فضل اللہ وحیدی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پیر اور منگل کے روز پاکستان سے پچاس سے زائد راکٹ داغے گئے جس کی وجہ سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی دورے کا مقصد باہمی تعاون اور اعتماد کو فروغ دینا تھا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ خطے کے وسیع تر مفاد میں اس قسم کی سرگرمیاں کو جاری رہنا چاہیئے۔
یاد رہے کہ بدھ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل ضلع چاغی میں افغانستان سے پندرہ افراد کی لاشیں لائی گئی تھیں۔
مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام افراد پاکستانی شہری تھے۔
ضلع چاغی کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان لاشوں کو افغانستان کے صوبہ ہلمند سے لایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ان افراد کے بارے میں انہیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ پندرہ افراد افغانستان کے صوبہ ہلمند میں افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام افراد ہلمند کے علاقے ہزار جفت میں دو روز قبل ہونے والی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی کی سرحد شمال میں افغانستان کے صوبہ ہلمند جب کہ مغرب میں ایران سے ملتی ہے اور یہاں سے مقامی افراد کی سرحد کے دونوں اطراف آمد و رفت جاری رہتی ہے۔







