حکومت بتائے کہ فوجیوں کےخلاف مقدمہ سننے کا حق کس کا ہے: سپریم کورٹ

فوجی حکام اہلکار کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں ہی چلانے پر اصرار کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفوجی حکام اہلکار کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں ہی چلانے پر اصرار کر رہے ہیں
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ پولیس سول جرائم میں ملوث فوجیوں کےخلاف ایف آئی آر تو درج کر سکتی ہے لیکن کیا ان فوجیوں کے خلاف مقدمہ سول عدالتوں میں چل سکتا ہے یا نہیں وہ حکومت سے مشاورت کے بعد عدالت کو بتائیں گے۔

اٹارنی جنرل فوجیوں کا سول عدالتوں میں مقدمہ چلنے سےحکومتی موقف 26 مئی کو عدالت میں داخل کروائیں گے۔

سپریم کورٹ نے ایک شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر ایک فوجی اہلکار کے خلاف ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کروانے کے استحقاق پر اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی تھی۔

اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ سول جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کے اس بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انھیں ہدایت کی کہ وہ حکومت سے مشاورت کے بعد عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ آیا فوجی اہلکار کے خلاف اگر فوجی عدالت میں بھی مقدمہ درج ہو اور سول عدالت میں بھی، تو کون سی عدالت اس مقدمے کو سننے کا حق رکھتی ہے؟

عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا سول جرائم کے خاتمے کے لیے سول عدالتی نظام (سی آر پی سی) کا اطلاق فوجی افسروں پر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟

یہ سوالات لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اٹھائے گئے ہیں۔ ان سوالات کے اٹھانے کی نوبت اس لیے آئی ہے کہ فوجی حکام ایک فوجی اہلکار کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں ہی چلانے پر اصرار کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف یاسین شاہ نامی شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی آر درج کر لی تھی تاہم تفتیش کے دوران ہی فوجی حکام نے امان اللہ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی تھی۔

فوجی حکام نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی سوات کی سول انتظامیہ کو ایک خط کے ذریعے اس معاملے کی تفتیش یا مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے سے بھی منع کر دیا تھا۔

عدالت نے فوجی حکام کی جانب سے سوات کے ڈپٹی کمشنر کو لکھے گئے خط پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوجی اور سول عدالتوں کے دائرہ اختیار کے اس معاملے کو حتمی طور پر طے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

فوجیوں پر سول عدالتوں میں مقدمے کے بارے میں سوالات لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اٹھائے گئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفوجیوں پر سول عدالتوں میں مقدمے کے بارے میں سوالات لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اٹھائے گئے

اس مقدمے کی جمعرات کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے اس مقدمے کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم سے بھی پوچھا کہ ان کی رائے میں اگر مقدمہ سول عدالت کے بھی پاس ہو اور فوجی عدالت بھی اس کی سماعت کرنا چاہے تو کون سا فورم مناسب ہوگا؟

انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک اس سوال کے جواب میں فاضل عدالت کو بتا چکے ہیں کہ اس صورت میں وفاقی حکومت کا پہلا استحقاق ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کرے یا اس کا فیصلہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں عدالتی دائرۂ اختیار طے کرنے کا کام فوج کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فوج خود اس جرم میں ملوث ہے۔ ایسے میں مجرم کو فیصلے کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟