لاپتہ کیس: حراستی مرکز کے انچارج کے خلاف ایف آئی آر نہیں ہو سکی

پینتیس لاپتہ افراد میں سے بارہ کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپینتیس لاپتہ افراد میں سے بارہ کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ جمعرات کو سپریم کورٹ میں 35 افراد کی جبری حراست کے مقدمے میں مالاکنڈ حراستی مرکز کے انچارج نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف ایف آئی آر سپریم کورٹ میں جمع کرانے میں ناکام رہے۔

یاسین شاہ کے مقدمے میں وزرات دفاع نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اسلام آباد کے تھانہ سکریٹیریٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ نائب صوبیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کرئے مگر تھانہ نے یہ کہہ کر کہ یہ معاملہ ان کی حدود میں نہیں پیش آیا ، درخواست مالا کنڈ پولیس کو بھیجوا دی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنٹی بینچ نے جمرات کو مالا کنڈ حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد کے مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت نے خبیر پختواخوا کے ایڈوکیٹ جنرل عبدل لطیف یوسف زئی کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومت سے اس ایف آئی آر سے متعلق تفصیلات لے کر جمعے کو عدالت کو آگاہ کریں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی پینچ نے جب سماعت کا آغاز کیا تو اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے سکریٹیر یٹ تھانہ کو بھیجی گی وہ درخواست پیش کی جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی تھی۔ ان کا کہنا تھا اب یہ معاملا مالاکنڈ پولیس کے پاس ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سکریٹیریٹ تھانہ نے پولیس قوانین سنہ 1934 کے تحت معاملہ مالاکنڈ پولیس کے حوالے کیا ہے کیونکہ لاپتہ افراد کو ان کی حدود سے حراست میں نہیں لیا گیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونا خوشی کی بات ہے کیونکہ آئین سے بالاتر کوئی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موت اور زندگی عدالت کے ہاتھ میں نہیں اس لیے ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع ہونا ایک آچھی بات ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز عدالت نے 35 افراد کی جبری گمشدگی کے مقدمہ میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف حکومت کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا تھا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ایف آئی آر چند گھنٹے کے اندر درج کرا دی جائی گی۔

دس دسمبر سنہ 2011 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مالا کنڈ حراستی سینٹر سے لاپتہ ہونے والے35 قیدی فوجی حکام کی حراست میں ہیں اس لیے لاپتہ افراد کو سات دن میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جس کے بعد ان میں سے بارہ افراد کو عدالت میں پیش کر دیا گیا مگر 23 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور اس میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی قانونی کارروائی شروع نہیں ہو سکی۔

اعلیٰ عدالت نے اس سلسلے میں مالاکنڈ کے نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت جمعے تک کے لیے ملتوی کر دی۔