خفیہ اداروں نے حراساں کیا، ڈرایا دھمکایا: ماما قدیر

ہمارے ساتھ اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ پر عائد ہوگی:ماما قدیر
،تصویر کا کیپشنہمارے ساتھ اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ پر عائد ہوگی:ماما قدیر

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے شرکا کے سربراہ ماما قدیر نے الزام لگایا ہے کہ جمعے کو رات دیر سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مارچ کے شرکا کو حرساں کرتے ہوئے انھیں اسلام آباد میں ان کی قیام گاہ سے بے دخل کیا ہے۔

بی بی سی سے سنیچر کی صبح بات کرتے ہوئے ماما قدیر نے بتایا کہ’رات کو ہمیں جہاں ٹھہرایا گیا تھا، وہاں خفیہ اداروں کے اہلکار آئے اور ہمیں کافی پریشان کیا، ڈرایا، دھمکایا اور وہ جگہ ہم سے زبردستی خالی کروایا اور کہا کہ آپ لوگ یہاں سے نکلیں۔اور میزبان کو بھی کافی تنگ کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ ایجنسیاں ہمرای ساتھ ہی رہی ہیں تو ہم ان کو جانتے ہیں اور ان کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔‘

ماما قدیر نے سوال اٹھایا کہ’ایک طرف تو نوازشریف ڈپٹی کمشنر کو بھیجتے ہیں کہ آپ ہمارے مہمان ہیں تو دوسری طرف ان کی ایجنسیاں ہمیں اور ہمارے میزبان کو تنگ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد کے جی ایٹ علاقے میں ایک سرکاری ہاسٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ہمیں وہاں سے نکالا گیا جس کے بعد ہم ایک دوست کی مدد سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔

ماما قدیر نے خبرادار کرتے ہوئے کہا کہ’ہمارے ساتھ اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ پر عائد ہوگی۔‘

دوسری طرف اسلام آباد کے جی ایٹ علاقے کے ایس پی جمیل ہاشمی نے اس قسم کے کسی واقعے کی رونما ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کو رات کے وقت جب انھوں نے جی ایٹ میں لانگ مارچ کے قیام گاہ پر سکیورٹی کے لیے پولیس بھیجی تو انھیں ہاسٹل کے چوکیدار نے بتایا کہ لانگ مارچ کے شرکا وہاں سے چلے گئے ہیں۔

اپنے آج کے سرگرمیوں کے حوالے سے ماما نے بتایا کہ سنیچر کو وہ اپنے لانگ مارچ کے اختتام کا اعلان کریں گے اور نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا پیر کو اقوامِ متحدہ کے دفتر جا کر وہاں پر بلوچستان میں’انسانی حقوق کی پامالی‘ کے حوالے سے یاد داشت جمع کرائیں گے۔

لانگ مارچ کے شرکا کوئٹہ سے تقریباً 2500 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد جمعے کو وفاقی دارالحکومت پہنچے تھے۔

اس لانگ مارچ میں نو خواتین ، تین بچے اور پانچ مرد شامل ہیں اور اس کی قیادت لاپتہ بلوچوں کے ورثا کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے رہنما قدیر بلوچ کر رہے ہیں۔

دو مراحل پر مشتمل مارچ کا آغاز گذشتہ برس 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے ہوا تھا اور اس کے شرکا 22 نومبر کو کراچی پہنچے تھے اور وہاں احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔

دوسرے مرحلے میں ان افراد نے 14 دسمبر کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا اور 74 دن کے سفر کے بعد وہ جمعرات کو راولپنڈی پہنچے جہاں سے وہ دارالحکومت جائیں گے۔

اسی لانگ مارچ میں میٹرک کی طالبہ سمی بلوچ بھی شریک ہیں جن کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ چار برس سے لاپتہ ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں لوگوں کی جبراً گمشدگیوں کا سلسلہ 2002 میں شروع ہوا تھا جس کے بعد سے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

صوبائی محکمۂ داخلہ ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بتاتا ہے جبکہ حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ادارے اور بلوچ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد 1500 سے زیادہے۔

بلوچ تنظیمیں ان افراد کی گمشدگی کا ذمہ دار سکیورٹی اور خفیہ اداروں کو قرار دیتی ہیں تاہم حکام ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔