’کورٹ مارشل بعد کی بات، پہلے پولیس کے حوالے کریں‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستانی فوج کی جانب سے ملٹری انٹیلی جنس کے ایک افسر کا کورٹ مارشل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے، اغوا کے مقدمے میں ملوث اس میجر کو پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
جناب جسٹس ناصر الملک اور جناب جسٹس عظمت رشید پر مشتمل بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل ابراہیم ستی سے کہا ہے کہ وہ تاسیف علی نامی شخص کے مبینہ اغوا میں ملوث میجر محمد احسن علی کو مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کے سامنے پیش کر دیں۔
ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا تھا کہ میجر حیدر کے نام سے مشہور ملٹری انٹیلی جنس کے اس میجر کے خلاف فوج کورٹ مارشل کی کارروائی کرنا چاہتی ہے۔
میجر محمد احسن علی عرف میجر حیدر پر الزام ہے کہ وہ تاسیف علی کے اغوا میں ملوث ہیں۔ یہ مبینہ سابق کشمیری شدت پسند دو برس سے لا پتہ ہے۔
فوج اور ملٹری انٹیلی جنس کے عدم تعاون کے باوجود پولیس نے سر توڑ کوششوں کے بعد نہ صرف تاسیف علی کے ’لاپتہ‘ ہونے کا سراغ لگا لیا تھا بلکہ میجر حیدر کے کوڈ نام سے مشہور میجر محمد احسن علی کا اصل نام اور موجودہ پوسٹنگ بھی معلوم کر لی تھی۔
تاسیف علی کی اہلیہ کے وکیل انعام الرحیم کے مطابق بدھ کے روز جب وزارت دفاع کی جانب سے ابراہیم ستی نے پہلی بار میجر محمد احسن علی کے’جرم‘ کا اقبال کیا اور عدالت کو بتایا کہ فوج اس افسر کا کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے تو عدالت نے اس پر اعتراض کر دیا۔
جناب جسٹس عظمت رشید نے کہا کہ کورٹ مارشل تو بعد کی بات ہے پہلے ملزم کو پولیس کے تفتیشی عمل کا حصہ بنایا جائے۔
ابراہیم ستی عدالت کو یہ بتانے سے بھی قاصر رہے کہ فوج کس جرم کے تحت ملزم کا کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے ابراہیم ستی کو حکم دیا کہ وہ پولیس تفتیش مکمل کرنے کے لیے ملزم کو دس مارچ سے پہلے پولیس کے سامنے پیش کرنے کا بندوبست کرے۔
میجر محمد احسن علی دو سال قبل پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں ملٹری انٹیلی جنس کے دفتر میں تعینات تھے جہاں ان کا جھگڑا ایک مقامی تاجر تاسیف علی سے ہوا تھا۔
تاسیف علی اس واقعے کے فوراً بعد لا پتہ ہو گئے تھے۔ پولیس نے ان کے فون کے ذریعے میجر حیدر نامی افسر کو شناخت کیا تھا۔
میجر محمد احسن علی عرف میجر حیدر کی آخری پوسٹنگ آواران کے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ہوئی تھی۔







