’فوج اور طالبان دونوں کو شکایات ہیں لیکن تعطل نہیں‘

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ ان معاملات کو سلجھانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں کیونکہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو شروع کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ ان معاملات کو سلجھانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں کیونکہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو شروع کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے طالبان رابطہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ طالبان کو فوج سے اور فوج کو طالبان سے کچھ شکایات ضرور ہیں لیکن اس کی وجہ سے باعث مذاکراتی عمل میں کوئی تعطل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ حکومتی کمیٹی اور طالبان شوری کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے لیے انتظامات کر رہے ہیں تاکہ امن کا مستقل قیام ہو سکے۔

پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان شوری کمیٹی کے رکن اعظم طارق سے رابطہ ہوا ہے اور ان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے وقت اور جگہ کے تعین پر بات چیت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں جانب سے کوئی اختلافات نہیں ہیں لیکن شکایات ضرور ہیں جیسے طالبان کا موقف ہے کہ ’سیکیورٹی فورسز جنوبی وزیرستان میں نقل و حرکت توپخانے اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مذید کہا کہ ’طالبان کو تشویش ہے کہ فوج اس علاقے میں کیا کر نا چاہتی ہے۔‘

یاد رہے چند روز پہلے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان ایجنسی کے سرحدی علاقے رزمک کے قریب فوج کی گاڑی باودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس میں ایک فوجی افسر سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں تین ہیلی کاپٹروں کے ساتھ مشتبہ مقامات پر بمباری کی تھی لیکن اس کارروائی میں کسی قسم کے کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔

اس بارے میں پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ ان معاملات کو سلجھانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں کیونکہ دونوں جانب سے اس طرح کی شکایات سامنے آئی ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو شروع کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ 23 اپریل کو حکومتی اور رابطہ کار کمیٹی کے درمیان ملاقات میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی تھی تاکہ اس قسم کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جاسکے اور صحیح فیصلے پر پہنچا جا سکے۔ انھوں نے کہا اس کے لیے مولانا یوسف شاہ کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ کام کر رہے ہیں۔

پرفیسر ابراہیم سے جب پوچھا کہ کیا ایسا کوئی تاثر سامنے آ رہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جو شروع ہوا تھا اب اس میں تعطل آ رہا ہے اور دوریاں بڑھ رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ عزم ہے کہ وہ ہر قسم کی مشکل کو حل کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کریں گے اور انھیں اللہ پر یقین ہے کہ وہ انھیں کامیابی عطا کرے گا۔

ان کے بقول ’طالبان شوری اور طالبان رابطہ کمیٹی کے ارکان میں رابطے ہوئے ہیں جس میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے وقت اور جگہ کے تعین پر بات چیت ہوئی ہے۔‘