’طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوگئے کیونکہ ملک میں امن آ گیا ہے‘

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں کیونکہ ملک میں امن آگیا ہے۔

یہ بات انھوں نے ایک ایسے موقعے پر کہی جب طالبان کی جانب سےجنگ بندی کے خاتمے کے بعد پرتشدد حملے پھر سے شروع ہو گئے ہیں۔

بی بی سی اردو سے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا: ’مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اس لیے کہ ملک میں امن آ چکا ہے، جنگ بندی ہو گئی ہے، اور دس سال میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔‘

تاہم جب ان سے جب پوچھا گیا کہ آج بھی کراچی میں دھماکہ ہوا تو پھر یہ کیسا امن ہے؟ اس پر ان کا جواب تھا: ’حملوں کی جو رفتار پہلے تھی اب وہ نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت آنے سے پہلے صوبے میں 171 حملے ہوئے تھے، جب کہ قبائلی علاقوں میں 90 حملے ہوئے تھے تو اس کے مقابلے میں تو اب پانچ چھ ہی ہوئے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے چیئرمین نے ملک میں آنے والے امن کے بارے میں کہا: ’دیکھیے، ساری دنیا میں یہی ہوتا ہے اور امن کی امید تو بنی ہے۔ ویسے بھی طالبان کی شرائط تو بالکل معمولی ہیں۔ انھوں نے قیدی مانگے ہیں، وہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کر رہے اور وہ پاکستان کے آئین کو بھی مانتے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت سمیت ان کے پاس مذاکرات کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی، طالبان نے جنگ بندی کا بھی خاتمہ کر دیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ طالبان مذاکرات چلا رہے ہیں تو یہ کس طرح کی کامیابی ہے؟ اس کے جواب میں عمران خان نے کہا: ’دیکھیں، یہ تو ہوتا رہے گا، جب مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اونچ نیچ آتی رہتی ہے اور ابھی تو امن مذاکرات کو محض دو ماہ ہوئے ہیں۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان دشمن عناصر ملک میں جنگ چاہتے ہیں اور جنگ کے لیےایک بڑی لابی بیٹھی ہوئی ہے۔‘

عوام میں عام تاثر ہے کہ عمران خان کے دل میں طالبان کے لیے نرم گوشہ ہے۔ اس سوال پر عمران خان نے جواب دیا: ’میرا سوفٹ سٹانس (نرم موقف) نہیں ہے بلکہ تمام سیاسی جماعتیں طالبان سے مذاکرات کے لیے بات چیت پر آمادہ ہیں۔‘

جیو ٹی وی کی بندش کی درخواست پر ان کے مبہم موقف کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا ’میرا بڑا واضح موقف ہے کہ جیو نے جو کیا وہ بالکل غلط ہے۔ آپ مفروضے پر کیسے خفیہ ادارے کے سربراہ کی تصویر آٹھ گھنٹے نشر کر کے انھیں ثبوت کے بغیر مجرم قرار دے سکتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو غلطیاں آئی آیس آئی نے ماضی میں کی ہیں یا جو الزامات لگے ہیں اس کا مطلب یہ نھیں کہ مفروضے پر ادارے کو بدنام کرنا شروع کر دیا جائے: ’حکومت نے بھی ایک ایجنڈے کے تحت اپنے ملک کی ایجنسی کو بدنام کروایا ہے اور وہ بھی اس وقت جب جنگ چل رہی ہے۔‘

اس سوال پر کہ نواز شریف کی ان کے گھر آمد کے بعد ان کا رویہ تبدیل کیوں ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ ’میرا کوئی ذاتی مفاد تو نھیں ہے مگر ملک دہشت گردی سے گزز رہا ہے اس لیے ہم نے طے کیا ہے کہ قومی مفاد میں ہم ایک ہی لائن لیں گے۔‘

سینیئر صحافی پر حملے کے بعد جیو ٹی وی چینل کے الزامات اور وزارت دفاع کی جانب سے جیو کا لائسنس منسوخ کرنے کے لیے پیمرا کو درخواست پر عمران خان نے کہا کہ ان کا اس بارے میں بڑا واضح موقف ہے۔

’جیو نے جو کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ آپ مفروزے پر کیسے خفیہ ادارے کے سربراہ آئی آیس آئی کی آٹھ گھنٹے تصویر نشر کر کےانہیں ثبوت کے بغیر مجرم قرار دے سکتے ہیں۔‘

میں نے پوچھا ایسا تو نہیں کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی آیس آئی پر بلوچستان میں لاپتہ افراد کا الزام نہ لگا ہوں، صحافی سلیم شہزاد کے قتل میں اس پر انگلیاں نہ اٹھی ہوں یا آئی ایس آئی نے کبھی سیاست میں مداخلت نہ کی ہوں؟ تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا ’جو غلطیاں آئی ایس آئی نے ماضی میں کی ہیں یا جو الزامات لگے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مفروزے پر ادارے کو بدنام کرنا شروع کر دیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’حکومت نے بھی ایک ایجنڈے کے تحت اپنے ملک کی ایجنسی کو بدنام کروایا ہے اور وہ بھی اس وقت جب جنگ چل رہی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے عمران خان نے مبہم جواب دیتے ہوئہ کہا ’یہی ایجنڈا نظر آرہا ہے کیونکہ ویسے حکومتیں ایسا کرتی نہیں۔‘

وزیر اعظم نواز شریف کی عمران خان کے گھر پر ان سے ملاقات کے بعد سے تاثر مل رہا ہے کہ پی ٹی آئی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے کہ جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا ’میرا کوئی ذاتی مفاد تو نہیں ہے۔ مگر ملک دہشت گردی سے گذر رہا ہے اس لیے ہم نے طے کیا ہے کہ قومی مفاد میں ہم ایک ہی لائن لیں گے۔‘