حکومت خود مختار نہیں، کس سے مذاکرات کریں: طالبان

حکومت طالبان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں بند کروانے میں بھی ناکام رہی ہے: شاہد اللہ شاہد

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکومت طالبان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں بند کروانے میں بھی ناکام رہی ہے: شاہد اللہ شاہد

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے اور اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔

جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان مذاکرات کو سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تحریکِ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ملک و قوم کو جنگ بندی کا ’تحفہ‘ دیا لیکن حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دوران اب تک سنجیدگی یا خودمختاری نظر نہیں آئی ہے۔

ترجمان کے مطابق ان کی جانب سے جو مطالبات پیش کیے گئے ان پر پیش رفت تو درکنار، حکومت طالبان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں بند کروانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو چکا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت سے کیے جانے ہیں یا پھر فوج کے ساتھ۔

اس بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں بابڑ اور شکتوئی کے علاقوں میں گذشتہ دو دن میں فوج کارروائیاں کر رہی ہے اور اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی تحریک طالبان کے خلاف کاروائیوں میں تیزی آ رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ صورت حال کسی طور پر بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کا ماحول فراہم نہیں کر سکتی۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بدھ کو یومِ شہدا کے موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ افواج پاکستان امن کے قیام کے لیے تمام اقدامات کی حامی ہیں تاہم ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں وہ کسی ابہام کا شکار نہیں۔

اس کے علاوہ امن مذاکرات کے لیے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے بھی حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان اور فوج دونوں جانب سے باہمی شکایات کا ذکر کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ شکایات مذاکراتی عمل میں تعطل کا باعث نہیں بنیں گی۔

سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی، حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔