بلاگر رضا رومی کی گاڑی پر فائرنگ، ڈرائیور ہلاک

رضا رومی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں سرگرم افراد میں سے ایک ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنرضا رومی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں سرگرم افراد میں سے ایک ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن اور بلاگر رضا رومی کی گاڑی پر فائرنگ سے ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا ہے۔

حملے کے فوراً بعد رضا رومی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ: ’مجھ پر راجا مارکیٹ میں فائرنگ کی گئی۔ میرا ڈرائیور زخمی ہے۔ مجھے اسی دن کا ڈر تھا۔‘

رضا رومی نے بی بی سی کے طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں اپنے ڈرائیور اور محافظ کے ساتھ کار میں تھا جب اس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں جلدی سے نیچے ہوا اور اس دوران گولی میرے ڈرائیور اور محافظ کو لگی۔‘

رضا رومی نے تصدیق کی کہ ان کے ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے محافظ شدید زخمی ہیں۔

رضا رومی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں سرگرم افراد میں سے ایک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ملکی سیاسی اور سماجی معاملات پر مختلف اخبارت میں کالم لکھنے کے علاوہ بلاگ بھی لکھتے ہیں۔

رضا رومی کی فائرنگ کے بعد ٹوئٹ

،تصویر کا ذریعہRaza Rumi Twitter

،تصویر کا کیپشنرضا رومی کی فائرنگ کے بعد ٹوئٹ

وہ ایکسپریس نیوز پر ٹی وی شو ’خبر سے آگے‘ پیش کرتے ہیں اور اس واقعے کے وقت وہ اپنا شو ختم کر کے جا رہے تھے۔

خیال رہے کہ ایکسپریس نیوز چینل کو ماضی میں بھی شدت پسندی کا کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

رواں برس کے آغاز میں کراچی میں چینل کی ایک ڈی ایس این جی وین پر فائرنگ سے عملے کے تین ارکان ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل گذشتہ برس بھی پہلے اگست اور پھر دسمبر کے مہینوں میں کراچی میں ہی ادارے کے مرکزی دفتر پر کو نشانہ بنایا گیا تھا اور حملہ آوروں نے دستی بموں سے حملے کے علاوہ فائرنگ بھی کی تھی۔

رضا رومی کی گاڑی پر فائرنگ کی ذمہ داری تو تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایکسپریس کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ ان کی تنبیہی کارروائیوں کا حصہ ہے۔