جو ہار گئے تو کیا کرو گے؟

طالبان سیانے بھی ہیں اور خان صاحب کی طبیعت سے بھی واقف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطالبان سیانے بھی ہیں اور خان صاحب کی طبیعت سے بھی واقف
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جو فیس بُکیے دانشور آئی آر اے کے سیاسی بازو شِن فین کی غلط مثال دیتے ہوئے خان صاحب عمران خان کی تحریکِ انصاف کو تحریکِ طالبان پاکستان کا سیاسی بازو سمجھتے ہیں ان کے پاس اگر گریبان ہیں تو انہیں اب ان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ خان صاحب نے دو ٹوک انداز میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اگر مذاکرات کی طرح آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کرو گے۔ گویا:

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مزاجِ جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

خان صاحب عمران خان کا یہ سوال کہ اگر آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کریں گے، اس پس منظر میں ہے کہ بقول ان کے وزیرِ اعظم شریف کی موجودگی میں جنرل کیانی کی بریفنگ کے دوران یہ بھی سنا گیا کہ آپریشن کی کامیابی کے امکانات چالیس فیصد ہیں۔

اگرچہ یہ بریفنگ کانفیڈینشل بتائی گئی تھی پھر بھی خان صاحب نے اس بارے میں پوری دنیا کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا۔حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بری فوج کے سربراہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صورتِ حال یہ اور یوں ہے۔

اب تصور کریں کہ سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں اور لیفٹننٹ جنرل خان صاحب وار روم میں اپنے کمانڈروں کی بریفنگ کی صدارت کر رہے ہوں، اور اچانک وہ اس سردار جی میں تبدیل ہوجائیں جس نے ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا تاکہ ہار بھی جاؤ تو دنیا کہے کہ مقابلہ کرکے ہارے ہیں اور ہارنے کے بعد منہ نہیں بسورنا بلکہ فاتحانہ مسکراہٹ سجائے دشمن سے مضبوط مصافحہ کر کے سر اٹھاتے ہوئےگراؤنڈ سے پویلین میں جانا ہے۔ ایک کھلاڑی نے ہاتھ بلند کیا: ’سردار جی سوچو! جے جت گئے تے فیر؟۔۔۔‘

لیکن ہنسی مخول سے قطع نظر خان صاحب کی بات میں واقعی وزن ہے کہ اگر آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کرو گے؟

یہ بات خیبر پختون خوا کے اس پولیس والے کو بھی سوچنی چاہیے جو کسی لق و دق چیک پوسٹ پر عین اس وقت اکڑا ہوا پہرہ دے رہا ہے اور دور کسی گھر میں اس کے تین چھوٹے بچے اپنے بابا کے انتظار میں وقت کاٹتے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ اور وہ فوجی بھی جس کی شادی بس تین مہینے پہلے ہوئی ہے مگر وہ پھر بھی اس وقت دیر کی کسی پہاڑی پر دوربین لگائے نقل و حرکت نوٹ کر رہا ہے۔ اور ان گیارہ ایف سی والوں کو بھی خان صاحب کے خدشے پر دھیان دینا چاہیے جو عین اس وقت کہیں ٹرک میں سوار ہورہے ہیں اور جانتے ہیں کہ ساٹھ فی صد امکان یہی ہے کہ اکیس منٹ بعد یہ ٹرک کوئی موڑ کاٹتے ہوئے اڑ جائے گا۔

بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ مصطفیٰ کمال کو کوئی عمران خان کیوں نہیں ملا جو خبردار کرتا کہ اتا ترک کہلانے کے چکر میں گیلی پولی پر حملہ مت کرنا، برطانوی و فرانسیسی تمہارے چیتھڑے اڑا دیں گے۔

اور کتنا اچھا ہوتا کہ رودبارِِ انگلستان کے راستے نارمنڈی میں اتحادی فوجیں کشتیوں کے ذریعے جرمن توپوں کے سامنے اتارنے سے پہلے کوئی خان صاحب جنرل آئزن ہاور کے کان میں کہہ دیتے: ’جا تو رہے ہو لیکن جرمنوں نے پوری فوج کا بار بی کیو بنا دیا تو کیا کرو گے؟‘ اور پھر آئزن ہاور خان صاحب کا ماتھا چوم لیتا اور دور کہیں برلن کے کسی فولادی بنکر سے کوئی ہٹلر خان صاحب کی سمت ایک ہوائی بوسہ اچھال دیتا، مواہ مواہ مواہ۔۔۔۔۔

طالبان سیانے بھی ہیں اور خان صاحب کی طبیعت سے بھی واقف۔ تبھی تو انہوں نے خان صاحب کو محض اعزازی سفیر کا درجہ دینے پر اکتفا کیا۔

کیا 1992 کے میلبرن کے ڈریسنگ روم میں کسی میاں داد یا وسیم اکرم نے خان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئےکہا تھا کہ: ’کپتان زیادہ امید مت رکھنا۔ انگلینڈ پچھلے میچ میں ہمیں 74 رنز سے صاف کر چکا ہے۔ سٹے کا ریٹ بھی انگلینڈ کے حق میں 60 - 40 چل رہا ہے۔ ورلڈ کپ اٹھانے کا خواب مت دیکھو۔ بس یہ سوچو کہ ہار گئے تو کیا کرو گے۔‘