’جو بھی طے ہوگا پورے پاکستان کے لیے نہیں ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے اپنے نکات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سے ہونے والے مذاکرات کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں پر ہوگا۔
یہ بات حکومتی کمیٹی اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر جاری ہونے والی مشترکہ پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> مذاکرات: دونوں طرف شکوک وشبہات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140206_ttp_ambiguity_divisions_over_talks_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ایک بڑی وضاحت ہو گئی، مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140204_taleban_govt_talks_douts.shtml" platform="highweb"/></link>
حکومتِ پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں طالبان کی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمیٹیوں نے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا اور اتفاق کیا کہ فریقین میں سے کوئی بھی امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے والی کارروائی نہ کرے اور امن و سلامتی کے منافی تمام کارروائیوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔
بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں کہا گیا ہے کہ بات چیت مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی حدود میں ہونی چاہیے اور امن مذاکرات زیادہ طویل نہیں ہونے چاہییں۔
حکومت نے طالبان سے یہ بھی کہا ہے کہ ان سے کیے جانے والے مذاکرات کا دائرہ شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا اور یہ پورے پاکستان پر محیط نہیں ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی کمیٹی نے طالبان سے نمائندہ کمیٹی کے علاوہ خود طالبان کی طرف سے بنائی جانے والی نو رکنی کمیٹی کے بارے میں بھی استفسار کیا اور پوچھا کہ کیا حکومتی کمیٹی کو اس سے بھی بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے طالبان سے اس کمیٹی کا دائرہ کار واضح کرنے کو بھی کہا ہے۔
مشترکہ بیان میں طالبان کی کمیٹی کے تحفظات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حکومت سے اس کی کمیٹی کے مینڈیٹ اور دائرہ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
طالبان کی نمائندہ کمیٹی نے وزیراعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات جلد طالبان تک پہنچائیں گے اور ان کے جواب سے حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔
طالبان سے بات چیت کے لیے بنائی جانے والی حکومت کی کمیٹی میں وزیرِاعظم کے مشیر عرفان صدیقی کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے سابق افسر میجر محمد عامر خان، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز پر مشتمل ہے۔







