طالبان سے مشاورت کے لیے طالبان کمیٹی وزیرستان میں

پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات طالبان تک پہنچائیں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات طالبان تک پہنچائیں گے

پاکستان میں قیامِ امن کے لیے حکومت سے مذاکرات میں طالبان کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی کے ارکان طالبان رہنماؤں سے مشاورت کے لیے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کمیٹی کے رکن اور جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ترجمان یوسف شاہ سنیچر کو بذریعہ سرکاری ہیلی کاپٹر میران شاہ گئے ہیں۔

بی بی سی کے شاہ زیب جیلانی کے مطابق یہ رہنما اب وہاں سے طالبان شوریٰ سے ملاقات کے لیے آگے جائیں گے اور یہ ملاقات نامعلوم مقام پر ہوگی۔

تاحال اس ملاقات کے مقام اور وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق میران شاہ روانگی سے قبل مانسہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے حکومت کی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کو مفید قرار دیا۔

اُنہوں نے کہا وزیراعظم نوازشریف مذاکرات کے حوالے سے مخلص ہیں اور قوم بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔

مذاکرات کے لیے حکومتی اور طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے درمیان جمعرات کو پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی جس میں حکومت کی جانب سے پانچ اور طالبان کمیٹی کی جانب سے تین نکات سامنے آئے تھے۔

حکومت کی جانب سے طالبان سے کہا گیا تھا کہ بات چیت مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی حدود میں ہونی چاہیے اور طالبان سے کیے جانے والے مذاکرات کا دائرہ شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا اور یہ پورے پاکستان پر محیط نہیں ہوں گے۔

اگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے:شاہد اللہ شاہد

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے:شاہد اللہ شاہد

حکومتی کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ امن مذاکرات زیادہ طویل نہیں ہونے چاہییں۔کمیٹی نے طالبان سے ان کی نمائندہ کمیٹی کے علاوہ بنائی جانے والی نو رکنی کمیٹی کے بارے میں بھی استفسار کیا تھا کہ کیا حکومتی کمیٹی کو اس سے بھی بات کرنا ہوگی۔

ان نکات پر طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ سمیع الحق نے کہا تھا کہ وہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات جلد طالبان تک پہنچائیں گے اور ان کے جواب سے حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔

اس بات چیت کے بعد جمعے کو طالبان کی کمیٹی کے ایک رکن اور لال مسجد اسلام آباد کے خطیب عبدالعزیز نے مذاکرات کے لیے آئین پاکستان کی حد مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی کے نکات میں شریعت کے نفاذ کی شرط کی شمولیت تک مذاکراتی عمل سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

جمعے کی شام ہی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے عبدالعزیز کے موقف کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اصل مقصد شریعت کا نفاذ ہے اور اگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔

حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر غور کیا جا رہا ہے تاہم مزید فیصلے وہ اپنی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کے بعد کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کے مطابق اب بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ طالبان حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملکی آئین کی حدود میں رہتے ہوئے بات چیت کرنے کے مطالبے کا کیا جواب دیتے ہیں اور فی الوقت یہ بالکل واضح نہیں کہ فریقین اس ایک دہائی پرانے مسئلے کے حل کے لیے کس طرح متفق ہو سکیں گے۔