پشاور: مکان پر حملہ، امن لشکر کے نو رضاکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں ماشوخیل کے علاقے میں شدت پسندوں نے ایک حملے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حمایتی امن لشکر کے نو رضا کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
علاقے میں چند روز سے امن لشکر اور شدت پسندوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔
پولیس انسپکٹر فرمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور یہ حملہ نیم شب کے وقت کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے پہلے ایک مکان پر دستی بم پھینکے اور جب اس مکان سے خاندان کے افراد باہر نکلے تو ان پر فائرنگ شروع کر دی جس سے نو افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا لیکن اس علاقے میں خطرات کی وجہ سے پولیس رات کے وقت موقعے پر نہیں پہنچ سکی۔ صبح کے وقت پولیس اور مقامی افراد پہنچے تو انھیں واقعے کا علم ہوا۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جس مکان پر حملہ کیا گیا ہے اس میں حکومت کے حمایتی امن لشکر کے رضا کار موجود تھے۔ یہ سب ایک ہی خاندان کے افراد تھے جن میں بھائی، بھتیجے اور قریبی رشتہ دار شامل تھے۔
پولیس نے بتایا کہ چند روز پہلے امن لشکر کے اہلکاروں نے ایک کارروائی میں شدت پسندوں کے ایک گروپ کے اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسی خاندان سے ظفر نامی جوان پولیس اہلکار تھا جسے چند روز پہلے شدت پسندوں کے اسی گروپ نے ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق ظفر کو اس وقت ہلاک کیا گیا تھا جب پولیس ایک دھماکے کی جگہ پر پہنچی تھی اور واپسی پر حملہ آوروں میں سے ایک نے ظفر سے پہلے اس کی شناخت پوچھی اور پھر اسے ہلاک کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کے اس گروپ کا تعلق لشکر اسلام سے بتایا گیا ہے اور چند روز پہلے امن کمیٹی کے رضا کاروں نے اس گروپ کے ایک اہم شخص کو ہلاک کردیا تھا جس کا یہ بدلہ لیا گیا ہے۔
ماشو خیل پشاور کے مضافات میں واقع ہے جہاں اس سے پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ یہ علاقہ خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اکثر حملہ آور تشدد کی کارروائیوں کے بعد انھی علاقوں کی جانب فرار ہو جاتے ہیں۔







