ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیو ٹیم پر حملہ، پولیس اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیو مہم کی ٹیم پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک اہل کار ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقع ڈیرہ اسماعیل خان سے 35 کلومیٹر دور ببر کے علاقے پرووا میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق صوبے میں جاری پولیو مہم کی ٹیم پرووا میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہی تھی۔ اس ٹیم کی حفاظت پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔
پولیس کے بقول نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں حالیہ چند مہنیوں کے دوران پولیو کارکنوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے اب تک درجنوں رضاکار اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
ان حملوں کی وجہ سے محکمۂ صحت کے اہل کار، اساتذہ اور رضاکار انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے سے بھی انکار کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 13 سال بعد ایک تین سالہ بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، جو کابل میں سنہ 2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلا کیس ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں اس بیماری کے یہ کیس پریشان کن ہیں۔
جس بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اس کا تعلق نہایت پسماندہ خانہ بدوش برادری سے ہے۔ سکینہ نامی اس بچی میں پولیو کی تشخیص اس وقت کی گئی جب یہ معذور ہو گئی۔
اس کا والد ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اکثر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آتا جاتا ہے اور اب وہ اسے علاج کے لیے وہیں لایا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے اور ملک میں 90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل رضاکاروں اور ان کی حفاظت کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں اور گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق حملوں میں 17 افراد ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔







