کابل میں 13 سال بعد پولیو وائرس کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 13 سال بعد ایک تین سالہ بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ کابل میں سنہ 2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلا کیس ہے۔
اس کیس کے سامنے آنے کے بعد افغان وزراتِ صحت نے فوری طور پر شہر میں ویکسینیشن کا حکم جاری کیا ہے۔
<link type="page"><caption> پولیو کے خلاف 21 ممالک کی مشترکہ قرارداد</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/11/131114_polio_middle_east_who_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
پولیو کی بیماری اب بھی افغانستان، پاکستان اور شمالی نائیجریا میں بڑے پیمانے پر موجود ہے جبکہ اس کا باقی دنیا سے لگ بھگ خاتمہ ہو چکا ہے۔
ان تمام ممالک میں اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے کارکنوں کو روکا جاتا ہے۔
افغانستان میں طالبان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے انسدادِ پولیو ویکسین کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد اس مرض میں کمی آئی تھی۔
سنہ 2011 میں ملک بھر سے 80 کیسز ، سنہ 2012 میں 37 کیسز، اور 2013 سنہ میں 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں اس بیماری کے یہ کیس پریشان کن ہیں۔
جس بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اس کا تعلق نہایت پسماندہ خانہ بدوش برادری سے ہے۔ سکینہ نامی اس بچی میں پولیو کی تشخیص اس وقت کی گئی جب یہ معذور ہو گئی۔
اس کا والد ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اکثر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آتا جاتا ہے اور اب وہ اسے علاج کے لیے وہیں لایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس واقعے کے بعد طبی عملے نے اس برادری کے تمام گھروں کا دورہ کیا ہے۔
اس علاقے میں نہ بجلی ہے اور نہ نلکے کا پانی۔ کابل میں سخت سردی کے باوجود بعض خانہ بدوش خیموں میں قیام پذیر ہیں۔
پولیو سے بچاؤ کے لیے بچوں کو انسدادِ پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ ملک بھر سے ہزاروں رضا کار اس مہم میں حصہ لیتے ہیں۔
افغانستان میں سامنے آنے والے لگ بھگ تمام ہی حالیہ پولیو کیسز پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں میں سامنے آئے۔
افغانستان کے طبی کارکن پاکستان کی سرحد عبور کرنے والے تمام بچوں کا معائنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جنہیں خطرات لاحق ہوتے ہیں ان کی ویکسینیشن کی جاتی ہے۔
لیکن اکثر لوگ سرحد عبور کرنے کے لیے قائم مخصوص چوکیوں سے نہیں گزرتے۔
افغان طالبان قوم پرست تحریک ہیں اور انہوں نے جدید ادویات پر اعتماد کیا ہے تاہم پاکستانی طالبان نسبتاً زیادہ مذہبی ہیں جو ہمہ وقت جہاد پر آمادہ ہیں ابھی تک مغرب کی بتائی کسی چیز پر یقین نہیں کرتے۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم کو روکنے کے لیے شدت پسند پولیو کارکنوں کو بھی ہلاک کر رہے ہیں۔ انہوں نے پولیو ویکسین کے بارے میں یہ افواہ پھیلا رکھی ہے کہ یہ دوا تولیدی صلاحیتوں کے خاتمے کے لیے ہے۔
افغانستان کے صحت کے وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طالبان دہشت گردی افغانستان میں بھی اس بیماری کے خاتمے کی کوششوں کے لیے خطرہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’پولیو کا یہ کیس بتاتا ہے کہ افغانستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ ہمیں اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی تاکہ یقینی بنایا جا سکے کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں اس بات سے قطع نظر کہ وہ کہاں موجود ہے۔‘







