پشاور: مسلح جھڑپ میں چار افراد ہلاک

پشاور کے علاقے بڈھ بیر اور اطراف کے مقامات پر پچھلے چند ہفتوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپشاور کے علاقے بڈھ بیر اور اطراف کے مقامات پر پچھلے چند ہفتوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور مسلح افراد کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں پولیس اہلکار اور امن کمیٹی کے رضاکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق یہ جھڑپ سنیچر کی شام قبائلی علاقے کی سرحد پر واقع پشاور کے مضافاتی علاقے ماشوخیل بڈھ بیر میں ہوئی۔

بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار اشفاق عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اور حکومتی حامی امن کمیٹی کے افراد شام کے وقت علاقے میں مشترکہ گشت کر رہے تھے کہ اس دوران 20 کے قریب مسلح افراد نے ان پر اچانک خود کاروں ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں امن کمیٹی کے دو اور سپیشل پولیس فورس کا اہلکار موقع ہی پر ہلاک ہوئے۔

ان کے مطابق پولیس کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی جس میں ایک حملہ آور مارا گیا تاہم دیگر حملہ آور قبائلی علاقے کی جانب بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے علاقے میں کوڑے کے ڈھیر سے دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا تھا جسے بعد میں بم ڈسپوزل یونٹ کی جانب سے ناکارہ بنا دیا گیا۔

پشاور کے علاقے بڈھ بیر اور اطراف کے مقامات پر پچھلے چند ہفتوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سے چند ہفتے قبل بڈھ بیر ہی کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک ضلعی رہنما میاں مشتاق کو مسلح افراد نے ساتھیوں سمیت ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

کچھ دن پہلے اسی علاقے میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں چار افراد مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ اس علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے بھی ایک معمول بن چکا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پشاور کے سرحدی علاقے بڈھ بیر اور متنی قبائلی علاقے باڑہ اور درہ آدم خیل سے ملے ہوئے ہیں جہاں شام کے وقت حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

ان میں بعض علاقے بدستور پولیس کے لیے’نو گو ایریا‘ سمجھے جاتے ہیں۔

ان علاقوں میں اغواء برائے تاؤان اور ڈکیتی کے وارداتیں بھی عام ہیں تاہم حکومت کو ان مقامات میں اپنی عمل داری بحال کرنے میں کئی سالوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔