’یک زبان ہو کر بولیں گے تو طالبان ہمیں نہیں مار سکتے‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کے کچھ سیاستدان خوفزدہ اور بزدل ہیں اور وہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر جان بوجھ کر قوم کو مغالطے میں ڈال رہے ہیں۔
کراچی میں بی بی سی کی لیز ڈوسیٹ سے خصوصی بات چیت میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے سیاستدانوں میں سے کچھ ’سٹاک ہوم سنڈروم‘ کا شکار ہیں اور وہ طالبان کے معاملے پر واضح موقف اختیار کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ناکام ہو رہے ہیں۔ سوات کی ملالہ ہو یا ہنگو کا اعتزاز یا شہباز بھٹی یا گورنر سلمان تاثیر یا میری والدہ، ہماری بہادر آوازیں ایک ایک کر کے خاموش کی جا رہی ہیں۔ اگر ہم یک زبان ہو کر بولیں گے تو وہ ہم سب کو تو نہیں مار سکتے۔‘
<link type="page"><caption> بلاول کو نیٹ پریکٹس کرنے دیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140128_bilawal_net_practice_wusat_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’فضل اللہ کے طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140127_nisar_assembly_ttp_talks_update_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سوال پر کہ کیا وہ طالبان سے مذاکرات کے بالکل حامی نہیں، بلاول کا کہنا تھا کہ ’مجھے آج کی وفاقی حکومت سے مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے مذاکرات کی نہیں بلکہ غیرمشروط مذاکرات کی بات کی جو کمزوری کی نشانی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے تحفظات کے باوجود طالبان سے بات چیت کے معاملے پر ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ چھ ماہ بعد مذاکرات کی باتیں تو بہت ہوئی ہیں لیکن عملی اقدام کوئی نہیں۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ اگر وہ اب مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو وہ غیرمشروط نہیں ہو سکتے۔‘
مذاکرات کے لیے شرائط کے بارے میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں صرف ان کے ہتھیار ڈالنے کی شرائط طے کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ شرائط یہ ہوں کہ ’جنگ بندی کی جائے اور طالبان ہتھیار پھینک دیں، وہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں اور اسلامی قوانین کی پابندی کریں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ بات چیت کامیاب نہیں ہوتی۔ ہم ماضی میں تجربہ کر چکے ہیں۔‘
فوجی آپریشن
وزیرستان میں فوجی کارروائی کے امکان پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ ہم پاکستان سے طالبان کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
’میرے خیال میں ہم نے بہت مذاکرات کی بات کر کے دیکھ لی ہے۔ مذاکرات ہمیشہ ہماری پالیسی کا حصہ رہے ہیں لیکن ہمیں ایک طاقتور کی حیثیت سے بات کرنی ہوگی۔ یہ حیثیت ہم کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں انھیں جنگ میں ہرانا ہوگا۔ وہ ہم سے لڑائی کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے اس وقت ملک میں اتفاقِ رائے موجود نہیں اور اسے دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
’ہم نے جو قومی اتفاقِ رائے قائم کیا تھا وہ ایسے سیاستدانوں کی حماقتوں سے ضائع کر دیا گیا جو کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے۔ یہ سیاستدان جان بوجھ کر قوم کو مغالطے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ وہ ڈرے ہوئے ہیں اور بزدل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ میری والدہ کا قتل اس ملک کو جگا دے گا اور کچھ دیر کے لیے ایسا ہوا بھی لیکن پھر دائیں بازو کی قوتوں کی پانی گدلا کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر میری والدہ کا قتل آپ کو نہیں جگا سکا، اگر ملالہ آپ کو نہیں جگا سکی، اگر بلوچستان میں ہزاروں شیعوں کا قتل آپ کو نہیں جگا سکا، اگر مرنے والے پاکستانی، شہید ہونے والے پاکستانی آپ کو نہیں جگا سکے تو ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ پاکستان کے سیاستدان بزدل ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ کیا ہے، میرے خیال میں پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ ناخواندہ، بھوک کا شکار افراد سے ہے کیونکہ مضطرب افراد کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دہشت گردوں کے لیے نرسری ثابت ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا طویل المدتی حل ضروری ہے لیکن اس وقت پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ داخلی دہشت گردی سے ہے۔‘
وزارتِ عظمیٰ کی خواہش نہیں
اس سوال پر کیا وہ ایک دن پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہیں گے، بلاول نے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کا وزیراعظم بننا نہیں: ’میرا مشن اس نظریے کو کامیاب بنانا ہے کہ تمام امن اور ترقی پسند قوتیں متحد ہو کر کام کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ میرا یقین نہیں کریں گی لیکن سب سے اونچی پوزیشن پر میری نظر نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ 2018 کے انتخابات پر ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ انھیں اونچے درجے کی سیاست میں ضمنی انتخابات میں ’پیراشوٹ‘ کیا جائے۔ ’لیکن ہاں اس موضوع پر اس وقت جماعت میں بحث ہو رہی ہے۔‘
بلاول نے کہا کہ یہ بات اب غیر متعلقہ ہے کہ پاکستان ان کے سیاست کرنے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں: ’حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مقابلہ کرنا ہے اور کم از کم ان کے خلاف آواز تو اٹھانی ہے۔ میری جان کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ میں اس وقت واحد سیاستدان ہوں جو علی الاعلان تحریکِ طالبان پر نام لے کر تنقید کر رہا ہے اور باقی سیاستدانوں کے پاس وہ کچھ نہ کہنے کے لیے کوئی بہانہ باقی نہیں رہا جو میں کہہ رہا ہوں۔‘
معاشرے اور ثقافت کی جنگ
سندھ فیسٹیول کے بارے میں سوال پر پی پی پی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ اس کا ایک مقصد تو موئنجو دڑو کو خستہ حالی سے بچانا اور دوسرا مقصد اس ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور اس کی تشہیر کرنا ہے جو میرے خیال میں اس وقت خطرے میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستانیوں کے سامنے سوال رکھا گیا ہے کہ کیا ہمیں ایک قوم کے طور پر باندھے ہوئے ہے؟ اور ان سوالوں کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کا جواب ہو گا مذہب اسلام۔ لیکن تاریخ نے یہ بات غلط ثابت کی ہے۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے اس کا بھی مذہب اسلام تھا لیکن مذہب مشرقی اور مغربی پاکستان کو ایک نہ رکھ سکا۔ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اس کا جواب دیں گے کہ فوج لیکن تاریخ دیکھیں تو یہ بھی غلط ثابت ہوا کیونکہ مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں ہی میں فوج تھی لیکن وہ ان دو حصوں کو متحد نہ رکھ سکی۔‘
بلاول زرداری بھٹو نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں قوم کو معاشرے اور ثقافت کی جنگ کا سامنا ہے جو وہ دائیں اور بائیں بازوؤں کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہار رہی ہے۔
’میرے خیال میں معاشرے اور ثقافتی جگہ کی جنگ ہم زیادہ دائیں بازو کے سامنے ہار رہے ہیں بہ نسبت بائیں کے اور ایسا عربنائزیشن اور طالبانائزیشن کے ذریعے ہو رہا ہے۔ دائیں بازو والے پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کو غیر اسلامی کہتے ہیں اور ہمیں اس پر تہذیب پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں طالبانائزیشن اور عربنائزیشن پر فخر کرنا چاہیے۔ اور دوسری جانب بائیں بازو پر لوگ اس پاکستان اور جو پاکستان بننے جا رہا ہے اس سے اتنا مایوس ہوئے کہ انہوں نے پاکستان ہی کو مسترد کر دیا۔‘
ماں کی یاد
اس سوال پر کہ کیا کوئی ایسا لمحہ ہوتا ہے جس میں وہ اپنے آپ سے سوال کرتے ہوں کہ اس وقت ان کی والدہ ہوتیں تو کیا کرتیں، بلاول نے کہا کہ ’ہاں میں اسی کے سہارے جیتا ہوں۔ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اس وقت میری ماں کیا کرتی۔ مثال کے طور پر میری ماں کی ہلاکت پر غم و غصہ تھا لیکن خوف نہیں تھا جبکہ سلمان تاثیر کی موت کے بعد سب سے حاوی جذبات خوف کے تھے۔ پورا ملک خوف کی وجہ سے خاموش تھا۔ اور یہ ایسا وقت تھا کہ میں نے سوچا کہ اگر میری ماں ہوتی تو وہ کیا کرتی۔ اس لیے میں اس وقت جاری پروپیگنڈے، توہینِ مذہب کے الزامات لگنے کے خطرے کی پروا کیے بغیر اس کے خلاف واضح طور پر کھل کر بولا۔‘







