کارکنوں کو بچانے کے لیے سو سیٹیں قربان کیں

بلاول بھٹو نے بڑے جوشیلے اور جذباتی انداز میں تقریر کی
،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹو نے بڑے جوشیلے اور جذباتی انداز میں تقریر کی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں اپنے کارکنوں کی جانیں بچانے کے لیے سو سیٹیں قربان کر دیں۔

کراچی میں سنہ دو ہزار آٹھ میں بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر حملے کی برسی کے موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی بہادروں اور شہیدوں کی پارٹی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سنہ دو ہزار سات کے انتخابات میں پارٹی نے شہید بے نظیر کی اور ہزاروں کارکنوں کی قربانی دی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت ’بزدل خان‘ کی جماعت نہیں ہے جو پشاور میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چرچ کے باہر کھڑے ہو کر دہشت گردوں کے لیے طرح طرح کے بہانے تلاش کر رہا تھا۔

بلاول بھٹو نے اس تقریر میں کراچی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اب بھی برطانوی کالونی ہے۔

انھوں نے اپنی جماعت کو بہادروں کی جماعت قرار دیتے ہوئے خصوصاً سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت عیسٰی کے چاہنے والوں کے لیے پارٹی کے لوگوں نے اپنی جان تو دے دیں لیکن ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی۔

انہوں نے کہا کہ وہ مذہب کے ٹھیکداروں کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پختوخوا کے عوام کو سونامی میں ڈوبنے نہیں دیں گے اور پنجاب کے شیر کا شکار کریں گے جو غریبوں کے خون سے اپنا پیٹ بھرتا ہے۔

انہوں نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنی پانچ سالہ حکومت میں دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکی لیکن ان کی جماعت نے دہشت گردوں کے آگے سر نہیں جھکایا اور سینہ تان کر ان کا مقابلہ کیا۔

سنہ دو ہزار سات میں کراچی میں بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس کی یاد تازہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تیس لاکھ لوگ اپنے قائد کو لینے پورے پاکستان سے کراچی میں جمع ہوئے تھے اور پورا کراچی خوشیوں سے جھوم رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اندھیرا ہونے پر دہشت گردوں نے ایک معصوم بچے کے جسم سے بم باندھ کر محترمہ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔

بلاول نے کہا کہ لوگ خطرے سے دور بھاگنے کی بجائے اپنے قائد کو بچانے کے لیے دوڑے۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو انھوں نے زبردست طریقے سے خراج تحسین پیش کیا۔