بلاول بھٹو کا ’قوم سےخطاب‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر چند درندے دنیا میں پاکستان اور اس کے عوام کو بدنام کر رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے ہار مان کر خود کو حالات کے حوالے کر دیں۔
عوام اپنی ثقافت اور روایات سے اس طوفان کا مقابلہ کریں گے اور جہالت کے اندھیروں کو فنا کر کے دم لیں گے۔
منگل کی شام ایک نجی ٹی وی چینل کے ذریعے پاکستان کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام اپنی ثقافت اور روایات سے اس طوفان کا مقابلہ کریں گے اور جہالت کے اندھیروں کو فنا کر کے دم لیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں ثقافتی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا: ’آج ہمارے ملک کی ثقافت اور میراث خطرے میں ہے اس صورت حال میں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں، ہمارے ثقافتی ورثے اور ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے انداز کی شیروانی پہن رکھی تھی۔ ان کے پس منظر میں بائیں طرف پاکستان کا قومی پرچم اور دائیں جانب اجرک کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے شیروانی کی جیب میں بھی اجرک کا رومال لگایا ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان پیپلز پارٹی کی تین بار اقتدار میں آنے کے باوجود انھوں نے حکمرانوں اور تعلیمی نصاب پر تنقید کی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکمرانوں، تعلیمی اداروں، علما اور مدارس نے سچ نہیں بولا، مطالعہ پاکستان کے نام پر غلط تاریخ پڑھائی گئی اور اسلامیات کے نام پر مذہب کا چہرہ بدل دیاگیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین نے شدت پسندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے زمانے کی دہشت کو تہذیب بنا کر وہ عوام کو اپنے جیسا جنگلی بنانا چاہتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہم پانچ ہزار سال پہلے بھی اتنے مہذب تھے جتنے وہ آج بھی نہیں ہیں۔
’وہ چاہتے ہیں کہ ہم خود کو بھول جائیں، وہ ہمیں جھکانا چاہتے تھے ہم نہیں جھکے، ہمیں توڑنا چاہتے تھے جب وہ ناکام ہوئے تو انھوں نے ہم پر حملہ کردیا، لفظوں کی گولیاں برسانے والوں نے ہم پر بموں کی بارش کر دی۔‘
بلاول بھٹو منگل کو جب لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، اس وقت بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس پر حملے کی خبریں نیوز چینلوں پر حاوی تھیں۔ اس سے پہلے کراچی میں تین پولیو ورکروں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی، فرقہ پرستی اور منافقت اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب عوام اپنی حقیقت سے واقف ہوں گے: ’ہمیں کسی کے رنگ میں رنگنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا رنگ اتنا گہرا ہے کہ اسے دہشت گردی کی سونامی کبھی دھو نہیں سکتی۔‘
سندھ فیسیٹیول کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہوگا، یہ انتہا پسندی کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے: ’اگر ہمیں جینا ہے تو اپنی جڑوں سے وابستہ رہنا ہوگا ورنہ دہشت گردی کے سیلاب میں ہماری پہچان گم ہوجائےگی۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم وہ نہیں جو ہمیں سمجھا جاتا ہے، ہم ایک جدید اور روشن خیال قوم ہیں، ہم اپنے ماضی سے پیار کرتے ہیں اور اپنے مستقبل سے غافل نہیں۔ ہمارے پاس ہنر ہے محنت کرنا بھی جانتے ہیں اور ہمیں مسکرانا بھی آتا ہے۔







