’جواب طالبان کو بھی دینا ہو گا کہ انھوں نے حملے کیوں کیے‘

طالبان کے حالیہ حملوں کے بارے میں ہمارے ذہن میں بھی بہت سوالات ہیں: پرویز رشید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطالبان کے حالیہ حملوں کے بارے میں ہمارے ذہن میں بھی بہت سوالات ہیں: پرویز رشید
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کہا ہے کہ پیر کو پارٹی کے اجلاس میں اس پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ سیاسی بیان ہے یا وہ ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں طالبان نے مسلح افواج، سکولوں، عبادت گاہوں اور عام شہریوں پر متعدد حملے کیے ہیں اور اب ایک دم ان کا ذہن بدلا ہے تو اس پر ہم پارٹی کے اعلیٰ اجلاس میں ضرور غور کریں گے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی وفود آئے، طالبان نے سب کو مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا ہے۔

اس پر وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ’ان سوالوں کا جواب انھیں دینا ہو گا کیونکہ اگر وہ خود کہتے ہیں کہ وہ بات چیت میں سنجیدہ تھے اور خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کے پاس وفود آئے بھی تھے تو گذشتہ دنوں انھوں نے شدت پسندی کے جتنے بھی واقعات کیے ہیں اس کا جواب بھی انھیں دینا چاہیے۔‘

وزیر اطلاعات کے مطابق’پارٹی کے اجلاس میں ان (طالبان) کے ذہن کے بدلنے کے بارے میں غور کریں گے اور اس بارے میں ہمارے ذہن میں بھی بہت سارے سوالات ہیں اور ہم ان کا جائزہ لیں گے۔‘

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مزید کہا کہ اجلاس میں اس بات پر غور کریں گے کہ کیا واقعی میں طالبان سنجیدہ ہیں، کیا یہ سیاسی بیان ہے یا وہ پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ ہو گئے ہیں، ان سوالوں پر غور کریں گے۔

اتوار کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کے بیان میں’حکومتی میڈیا نے مذاکرات کے حوالے سےتحریک طالبان کے رویے سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈے کیے، الزام تراشیوں اورخود ساختہ انکار کے بعد ایک بار پھر قبائلی عوام پر جنگ مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، یہ ایک جنگی چال اور امریکہ کو خوش کرنے کا آسان طریقہ ہے،حالانکہ تحریک طالبان نے اپنے ذمہ دار فورم سے پوری قوم پر بارہا یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بامعنی، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔‘

گذشتہ جمعرات کو بھی کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے اور ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ طالبان مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات کی مشروط پیشکش پہلے بھی کی جا چکی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنطالبان کی جانب سے مذاکرات کی مشروط پیشکش پہلے بھی کی جا چکی ہے

پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون نے اقتدار میں آنے کے بعد طالبان سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے گدشتہ سال ستمبر میں کل جماعتی کانفرس میں حکومت کو طالبان سے بات چیت کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

کل جماعتی کانفرس کے کچھ عرصے بعد نومبر میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان سے بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔

تاہم طالبان سے بات چیت کس سطح پر تھی اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔اس کے بعد حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے شدت پسندی کے متعدد واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد حکومت پر دباؤ آیا ہے کہ وہ بات چیت یا فوجی کارروائی کا فوری فیصلہ کرے۔