طالبان سے مذاکرات کے امکانات معدوم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
فوج کی طرف سے شمالی وزیرستان میں حالیہ دنوں میں محدود کارروائی اور ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی سرکاری پالیسی کے بارے میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت شاید زبانی طور پر تو مذاکرات کی کوششوں کا اعلان کرتی رہے لیکن عملاً طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا۔
طالبان کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں تابڑ توڑ حملوں کے بعد حکومت پر ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود حکومت سرکاری طور پر اب تک مذاکرات ہی کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔
جمعرات کی شام ملک کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مشاورت اور اس سے پہلے میر علی میں پاکستانی بری اور فضائی افواج کی کارروائیاں البتہ اس پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کی بات تو اب بھی کرتی رہے گی، لیکن عملاً کچھ اور ہوگا:
’اب آپ دیکھیں گے کہ فوجی کارروائیوں میں بہت تیزی آئے گی۔ آپ دیکھیں گے ہر روز کہیں نہ کہیں فوجی کارروائی ہو گی، کہیں فوجی حملے ہوں گے، کہیں پیرا شوٹ کے ذریعے فوجی اتارے جائیں گے، کہیں بمباری ہو رہی ہو گی۔ تو آنے والے دنوں میں محدود فوجی کارروائیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گا۔‘
نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت اور فوج روایتی فوجی کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گی جس میں لاکھوں فوجی حصہ لیتے ہیں۔
’وزیرستان ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں ایک لاکھ فوج کے ذریعے آپریشن کیا جائے کیونکہ وہاں افغان طالبان بھی ہیں جن کے خلاف حکومت کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ اس لیے حکومت نے جو اب فیصلہ کیا ہے وہ اصل میں ہے فوجی آپریشن ہی لیکن یہ ہدف بنا کر کارروائی کرنے کا منصوبہ ہے۔ جہاں جہاں یہ سمجھتے ہیں پاکستانی طالبان موجود ہیں وہاں کارروائی کی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نجم سیٹھی کے مطابق گذشتہ ہفتے میر علی میں ہونے والی فوجی کارروائی انھی متوقع کارروائیوں کی ایک جھلک تھی۔
بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مذاکراتی پالیسی کی طرح حکومت کی جانب سے سرجیکل یا ٹارگٹڈ آپریشنز کی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا کہنا ہے کہ محدود یا ہدف بنا کر فوجی کارروائی پاکستان اور طالبان کے تناظر میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
’دہشت گردی کے جواب میں ہونے والا فوجی حملہ کبھی بھی فوجی حکمت عملی میں فائدہ نہیں دیتا۔ وقتی طور پر دشمن کو اس سے نقصان تو پہنچایا جا سکتا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر شدت پسندی کو ختم کرنا ہے اور حکومتی رٹ بحال کرنی ہے تو اس کے لیے روایتی فوجی کارروائی ہی سودمند ہو سکتی ہے۔‘
بریگیڈیئر سعد محمد کے مطابق اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ شدت پسند ان محدود فوجی کارروائیوں کے ڈر سے اپنی کارروائیاں ترک کر دیں گے یا ملک سے بھاگ جائیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
’یہ تو خام خیالی ہے کہ ایک آدھ فوجی حملے سے ڈر کر دشمن سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائے گا۔ جو دشمن کے مقاصد ہیں اور ان کے مقاصد ہیں جو انھیں رقم فراہم کر رہے ہیں، ان سے یہ لوگ اتنی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس طرح مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔‘
نجم سیٹھی کی رائے میں ان محدود فوجی کارروائیوں یا سرجیکل آپریشنز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ حکومت ان کا دائرہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی بڑھا سکتی ہے۔
مستونگ میں لشکر جھنگوی کے شدت پسندوں کے خلاف نیم فوجی دستوں کی کارروائی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔







