پولو گراؤنڈ ریفرنس: آصف زرداری پر فردِ جرم عائد نہیں کی جاسکی

عہدۂ صدارت سے ہٹنے کے باوجود ابھی تک زرداری کو دھمکیاں مل رہی ہیں: فاروق نائیک
،تصویر کا کیپشنعہدۂ صدارت سے ہٹنے کے باوجود ابھی تک زرداری کو دھمکیاں مل رہی ہیں: فاروق نائیک
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری جمعرات کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے جہاں ان پر وزیراعظم ہاؤس میں پولوگراؤنڈ کی تعمیر کے مقدمے کے سلسلے میں فرد جُرم عائد نہیں کی جاسکی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے وکیل فاروق نائک نے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ اس ریفرنس میں ان کے موکل پر فردِ جرم عائد کی ہی نہیں جاسکتی۔

عدالت نے اس درخواست پر سماعت کو اٹھارہ جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

سابق صدر کے وکلا نے درخواست کی ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث آصف علی زرداری کو آئندہ سماعتوں میں عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دیا جائے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے تحریری درخواست دی جائے جس پر عدالت فیصلہ کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صدارت چھوڑنے کے بعد بدھ کے روز پہلی مرتبہ اسلام آباد پہنچے۔

عدالت پہنچنے پر پیپلز پارٹی کے کئی رہنما سابق صدر کے ہمراہ تھے۔ ان کو سیکٹر ایف ایٹ میں ان کی رہائش گاہ سے سخت سکیورٹی میں عدالت لایا گیا۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک گُذشتہ سماعتوں پر احتساب عدالت کو یقین دہانیاں کرواتے رہے ہیں کہ اُن کے موکل عدالت میں پیش ہوں گے۔

اس سے پہلے سابق صدر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ انھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرے۔

آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ پولو گراؤنڈ کیس میں اُن کے موکل کے خلاف فرد جُرم عائد ہونے کے بعد وہ عدالت میں آصف زرداری کو پیشی سے مستثنٰی قرار دینے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

جمعرات کو احتساب عدالت میں پاکستان کے سابق صدر پر پولو گراونڈ ریفرنس میں فرد جُرم عائد ہونے کے علاوہ اُن کے خلاف دائر دیگر چار ریفرنسوں میں گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔

ان ریفرنسز میں ایس جی ایس، کوٹیکنا، اے آر وآئی گولڈ اور ٹریکٹر سکیم شامل ہیں۔ عدالت نے ان مقدمات میں گواہوں کو نوٹس بھی جاری کر رکھے ہیں۔

اسلام آباد پولیس نے سابق صدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر وہاں پر حفاظتی اقدامات سخت کردیے ہیں اور غیر متعلقہ افراد کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ ان مقدمات میں شریک دیگر افراد کی ضمانتیں ہو چکی ہیں جبکہ آصف علی زرداری کے عہدہ صدارت پر ہونے کی وجہ سے اُنھیں استثنٰی حاصل تھا اور ان کے خلاف ان مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی تھی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعرات کو آصف علی زرداری کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وہاں موجود ہوں۔

بدھ کو سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت مقدمات کا سامنے کرنے سے نہیں گھبراتی اور اُن کے رہنما عدالتی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ شریف برادران کا نام لیے بغیر اُنھوں نے کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ جن دیگر افراد کے خلاف احتساب عدالتوں میں مقدمات ہیں، اُنھیں کب طلب کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ آصف زرداری کے خلاف نواز شریف کے سابقہ دورِ حکومت میں 12 مقدمات درج کیےگئے تھے جن میں سے وہ آٹھ مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔