آصف زرداری کو احتساب عدالت سے بُلاوا

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق صدر آصف زرداری پر وزیراعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے ریفرنس میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے انھیں 23 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے آصف زرداری کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنے موکل کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں۔
اس سے پہلے عدالت نے آصف علی زرداری کو نو دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم اُن کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے بقول پاکستان کے سابق صدر کی جان کو شدید خطرہ ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کو عہدۂ صدارت سے ہٹنے کے باوجود بھی ابھی تک دھمکیاں مل رہی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ آصف زرداری کی اہلیہ اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو بھی شدت پسندوں کا نشانہ بنیں۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے نجی سکیورٹی کا انتظام کریں گے تاکہ اس کا قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے۔ جس پر عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے اور وہ اپنی حفاظت کے لیے ریاست کو لکھیں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اُن کے موکل کے خلاف تین ریفرنسوں میں فرد جُرم عائد ہو چکی ہے اور ان مقدمات میں کارروائی وہیں سے شروع کی جائے جہاں سے اُسے روکا گیا تھا۔
قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 35 بی کے تحت کارروائی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں سے اُسے روکا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہونے کے بعد اُن کے خلاف درج مقدمات پر عدالتی کارروائی روک دی گئی تھی کیونکہ آئین کے تحت اُنھیں استثنیٰ حاصل ہے۔
آصف زرداری کے وکیل کی طرف سے کوٹیکنا ریفرنس کی کاپی نہ ملنے پر عدالت نے نیب کے حکام سے کہا کہ اُنھیں اس ریفرنس کی کاپی فوری فراہم کی جائے۔
یاد رہے کہ ان مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا کے پینل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے والے ہائی کورٹ کے دو سابق جج بھی تھے جن میں ارشد تبریز اور امجد اقبال قریشی شامل ہیں۔
آصف زرداری کے خلاف نواز شریف کے سابقہ دورِ حکومت میں چار ریفرنسوں سمیت 12 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے وہ آٹھ مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔







