زرداری کے مقدمات کا کیا بنے گا۔

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آصف علی زرداری آٹھ ستمبر کو اپنے عہدہ صدرات کی مدت پوری کرنے کے بعد اپنی آئینی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے جس کے بعد اُن کے خلاف مقدمات دوبارہ سے کھل جانے کا امکان ہے جن میں آصف علی زردرای کو بطور صدر استثنٰی ہونے کے بعد ان پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔
موجودہ صورت حال میں اب شاید ملک کی ان دو بڑی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اتنی تلخی نہیں ہے جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مصالحت کی بازگشت اب پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں بھی سُنائی دے رہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنماوں کے بیانات سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک دوسرے کے خلاف اُن مقدمات کو نہیں کھولنا چاہتے جو اُن کے دور حکومت میں درج کیے گئے تھے۔آصف علی زرداری وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرواچکے ہیں۔
آصف علی زرداری کے خلاف چار ریفرنس سمیت بارہ مقدمات درج تھے جن میں سے وہ اٹھ مقدمات میں بری ہوچکے ہیں جبکہ احتساب عدالت میں چار ریفرنس میں ابھی تک وہ بطور ملزم ہی ہیں جن میں اثاثہ جات کے علاوہ ، ایس ایس کی کوٹیکنا، ٹریکٹر اور وزیر اعظم ہاؤس میں پولو گراونڈ کے ریفرنس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سوئس عدالتوں میں بھی آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات زیر سماعت رہے ہیں۔
ان مقدمات میں دیگر ملزمان یا تو وفات پاچکے ہیں اور یا پھر عدالت نے اُنہیں ان مقدمات میں بری کردیا ہے۔ نامزد ملزمان میں سابق وّزیر اعظم بینظیر بھٹو اور اُن کی والدہ نصرت بھٹو بھی شامل تھیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان ریفرنس میں رہائی پانے والوں میں صدر زرداری کے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی اور سابق سیکرٹری اسلم حیات قریشی بھی شامل ہیں جو اطلاعات کے مطابق ان دنوں امریکہ میں ہیں۔
معروف قانون دان ایس ایم ٌظفر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اس سال دسمبر میں ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ بھی بظاہر اتنی متحرک نہیں ہوگی اور آصف علی زرداری کے خلاف یہ بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو ان مقدمات سے بری کروا لیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پہلے ہی سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کر رکھا ہے اور ایسی صورت حال میں دوسرے صدر کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ آصف علی زرداری عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے کے بعد بیرون ملک چلے جائیں گے اور باہر بیٹھ کر ہی پارٹی کے امور چلائیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل اور آصف علی زرداری کے مقدمات کے پیروی کرنے والے سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل مقدمات سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ اُ نہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری دس سال جیل میں رہے لیکن استغاثہ کسی ایک مقدمے میں بھی اُن کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کرسکے۔
آصف علی زرداری کے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ میں صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی افواج کی کارروائی سے متعلق آصف علی زرداری پہلے سے آگاہ تھے لیکن اُنہوں نے پاکستانی افواج کو اس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ درخواست میں اُن کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی استدعا کی گئی ہے جس پر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے دس ستمبر کو جواب طلب کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آصف علی زرداری جب صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے تھے اُس وقت اُن کے خلاف جتنے بھی مقدمات تھے وہ سارے این آر او کے تحت ختم کردیے گئے تھے جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔







