آصفہ بھٹو زرداری کا ووٹ رجسٹرڈ ہو گیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کا ووٹ سندھ کے ضلع ٹنڈوالہیار میں رجسٹرڈ کر لیا گیا۔
قومی اسمبلی کے حلقے این اے 223 کی یونین کونسل جھنڈو مری میں یہ ووٹ رجسٹرڈ کیا گیا، اس موقع پر فریال تالپور اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن بھی آصفہ بھٹو کے ہمراہ تھیں۔
آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ ٹنڈوالہیار کو اپنا دوسرے گھر سمجھتی ہیں، اسی حلقے سے ان کی والدہ دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔
<link type="page"><caption> ’پولیو کے خلاف مہم سیاسی ہے‘: ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/07/120721_asifa_bhutto_int_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جو پارٹی کے معاملات میں کافی گرفت رکھتی ہیں کا کہنا تھا کہ این اے 223 سے بلاول امیداور ہوں گے یا آصفہ اس کا فیصلہ پارٹی قیادت نے کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول اور آصفہ نے جس سیاسی سفر کی ابتدا کی ہے وہ سب مل کر اس مشن میں کامیابی کے لیے ان کا ساتھ دیں گے۔
بلاول اور بختاور بھٹو کے مقابلے میں آصفہ بھٹو سیاست میں زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں، وہ اپنے والد کے ساتھ سیاسی اور سفارتی دوروں میں موجود ہوتی ہیں جبکہ سماجی ویب سائٹ پر سیاسی صورت حال پر تبصرے بھی کرتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ووٹ نئوں دیروں میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا، این اے 207 ان کی والدہ بینظیر بھٹو کا آبائی حلقہ انتخاب رہا ہے موجودہ وقت یہاں سے ان کی پھوپھی فریال تالپور رکن قومی اسمبلی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بختار بھٹو زرداری کا ووٹ نوابشاہ میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا، این اے 213 کے اس حلقے سے ان کی پھوپھی عذرا پیچو رکن قومی اسمبلی ہیں۔
آصفہ بھٹو سمیت صدر زرداری کے تینوں بچے اب انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوگئے ہیں۔







