’صدر عزت و وقار سے عہدہ چھوڑ رہے ہیں‘

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک میں جمہوری نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے سپرد کر دیے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں الوداعی ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی آئینی مدت آٹھ ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں خالصتاً جمہوری اصولوں کے مطابق حکمرانی ہو اور جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار ہو۔
انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی تبدیلی کے غیر جمہوری طریقوں کو مسترد کر دیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم نے صدرِ مملکت سے ملاقات کی۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات آدھے گھنٹے جاری رہی۔
ظہرانے پر وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں ایک منفرد موقع ہے کہ ایک جمہوری طور پر منتخب صدر اپنی مدت مکمل کر کے عزت و وقار سے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔
’صدر زرداری نے جمہوری نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے سپرد کر دیے۔ منتخب صدر ممنون حسین بھی جمہوریت اور اداروں کو مزید مضبوط بنانے میں مثبت کردارادا کریں گے۔
ظہرانے پر صدر زرداری نے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ ’قومی مسائل پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل کے لیے متحد ہو جانا چاہیے۔
ظہرانہ اور سوشل میڈیا
منتخب وزیر اعظم کی جانب سے منتخب صدر کی آئینی مدت ختم ہونے پر ظہرانے اور ایک دوسرے کے لیے اچھے خیالات کے اظہار کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس امر کو جمہوریت کی جیت کہا جا رہا ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے ٹوئٹ میں کہا ’جمہوریت کی اصل جیت ہوئی ہے اور بلوغت اور دانشمندی دیکھنے کو ملی۔ ’تاہم بدقسمتی سے چند نے اپنی انا کی خاطر اس ظہرانے میں شرکت نہیں کی‘۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر آئی ہوئیں ممبر قومی اسمبلی علیزے اقبال حیدر نے ٹوئٹ کیا ’یقیناً یہ جمہوریت اور شہید بینظیر بھٹو اور وہ جنہوں نے جمہوریت کی خاطر قربانی دی کی جیت ہے۔‘
صحافی اور دی نیوز اخبار کے مدیر طلعت اسلم نے ٹوئٹ کیا کہ آج وہ ہوا ہے جس کو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک منتخب ووزیر اعظم ایک منتخب صدر کو الوداعی ظہرانہ دے رہا ہے۔
لیکن جہاں اس ظہرانے اور جمہوری اقدار کی تعریفیں کی گئیں وہاں پر دیگر پہلوؤں پر تبصرے بھی ہوئے۔
ریڈیو پاکستان کے سابق ڈی جی مرتضیٰ سولنگی نے ٹوئٹ کیا کہ جب صدر زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کا مقولہ بولا کہ ’ہمالیہ آنسو بہائے گی جب مجھے قتل کر دیا جائے گا‘ تو اس وقت کیمرہ سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق پر گیا۔
صحافی عامر متین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ’وزیر اعظم اور صدر کی تقاریر کا اصل پیغام یہ ہے: نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کو پانچ سال تک تنگ نہ کیا جائے اور صوبہ سندھ میں مدد کی جائے، اور صدر زرداری چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات نہ کھولے جائیں۔‘







