’سوئس مقدمات کھولنے کے امکانات ختم‘

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئس حکام کا منی لانڈنگ کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے سے معذرت کے بعد اب صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ کو دوبارہ کھولنے کا باب بظاہر بند ہوگیاہے۔
پاکستانی وزارت قانون کے مطابق سوئس حکام نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے پر کارروائی سے اس بناء پر معذرت کرلی ہے کہ مقدمہ زائد المعیاد ہوچکا ہے۔
بعض وکلا کی رائے ہے پاکستانی حکومت کے پاس کوئی ایسا قانونی راستہ دکھائی نہیں دیتا جس کے ذریعے صدر آصف زرداری کے خلاف مقدمے کو دوبارہ کھولا جاسکے۔
صدر آصف علی زرداری کے خلاف یہ مقدمہ انیس سو ستانوے میں نواز شریف کے دور میں قائم کیا گیا تھا اور اب جب سوئس حکام نے اس مقدمہ کو چلانے سے انکار کیا ہے تو اس وقت نواز شریف اقتدار میں ہیں۔
سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان تناؤ باعث رہا اور اسی وجہ سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا ہوئی اور ان کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔
تاہم یوسف رضا گیلانی کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے گزشتہ برس دسمبر میں سوئس حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف دوبارہ مقدمہ کھولنے کے لیے خط لکھا تھا تاہم وزارت قانو ن کے مطابق سوئس حکومت نے مقدمہ کھولنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔
سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا بھی ا نہیں ماہرین قانون میں سے ایک ہیں جن کا یہ موقف ہے کہ عدالت نے حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے مقدمہ پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ زائد العمیاد ہونے کی بنا مقدمہ ختم ہونے کا فائدہ مخالف فریق کو ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر قانون کے بقول فوجداری مقدمہ پر نظرثانی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے اب پاکستانی حکومت کے پاس کوئی ایسی قانونی گنجائش باقی نہیں ہے کہ وہ اس معاملہ پرسوئس حکام سے رجوع کرسکے۔
ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری ابھی ملک کے صدر ہیں اور اس لیے ملکی آئین کے تحت ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب صدر زرداری اپنے عہدے سے الگ ہوں گے تو مزید وقت گزر جائے اور سوئس حکام پہلے ہی مقدمے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے اس کو دوبارہ کھولنے سے معذرت کی ہے۔
ماہر قانون بابر ستار بھی اس موقف کے حامی ہیں کہ اب صدر زرداری کے خلاف مقدمہ زائد المعیاد ہونے کی بنا پر نہیں چلایا جا سکتا۔
ان کی رائے ہے کہ اگر کوئی ایسا جواز پیش کیا جائے جو عدالت کو قبول ہوتو اسی صورت میں رعایت مل سکتی ہے جیسے وزیر اعظم نواز شریف کی طیارہ سازش کیس میں اپیل زائد معیاد ہونے کے باوجود منظور کرلی گئی۔ تاہم بابر ستار کا کہنا ہے کہ تمام ملک میں اس طرح کی روایت نہیں ہوتی ہے۔
ان کے بقول پہلی وجہ تنازع ختم ہوچکی ہے اور اب اسی صورت میں سوئس عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے وجہ تنازع نئی ہو۔
سنیئر قانون دان سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ سوئس قانون کے تحت کسی مقدمے پر پندرہ برس کے اندر ہی کارروائی ہوسکتی ہے اور اب صدر زرداری کے خلاف مقدمہ پر دوبارہ نہیں چل سکتا کیونکہ یہ مقدمہ اگست ستانوے میں قائم ہوا تو گزشتہ برس اگست میں اس کی مدت مکمل ہوگئی ہے۔
تاہم ان کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس سوئس عدالت سے رجوع کرنے کی ایک ہی گنجائش ہے اگر کوئی ایسی بات یا واقع سامنے آجاتا ہے جو مقررہ مدت کے اثر نہیں آتا تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ ایک نیا مقدمہ قائم ہوسکتا ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے اپنی جگہ تاہم سوئس حکام کے انکار کے بعد ابھی تک حکومت پاکستان کا اس موضوع کو کوئی اعلان یا حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔







