’سابق حکومت نے سوئس حکام کو ایک نہیں دو خط لکھے‘

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او عمل درآمد کے مقدمے میں وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات ختم کرنے کے لیے وزارتِ قانون کی طرف سے سوئس حکام کو لکھے جانے والے دوسرے خط کی تحققیات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

یہ بات اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بدھ کو بتائی۔

یاد رہے کہ این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر اُس وقت کی حکومت نے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھا تھا جس کا مسودہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا کہ حکومت نےاس خط میں صدر آصف علی زرداری کو بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ کا بھی ذکر کیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں انکشاف کیا کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سیکریٹری قانون یاسمین عباسی نے بائیس نومبر سنہ دو ہزار بارہ کو ایک اور خط سوئس حکام کو لکھا تھا۔

اٹارنی جنرل کے مطابق اس دوسرے خط میں کہا گیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بند کر دیے جائیں اور اس ضمن میں حکومت کو آگاہ کیا جائے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقدمات کھولنے سے متعلق پہلا خط سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں لکھا گیا تھا۔

اس خط کے بعد سوئس حکام نے پاکستانی حکومت کو اسی ماہ آگاہ کر دیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن سمیع سعید پر مشتمل ایک دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان معاملات کا جائزہ لے گی اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوسرے خط پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت قانون اور اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو اندھیرے میں رکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

<link type="page"><caption> ’سوئس مقدمات کھولنے کے امکانات ختم‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/06/130619_zardari_swiss_cases_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

واضح رہے کہ یاسمین عباسی بھی اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججز میں شامل تھیں جنہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا جس کے بعد ان ججز کو سپریم کورٹ کے ایک حکم پر عہدوں سے برطرف کردیا گیا تھا۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ حکومت نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے اپیل دائر کر دی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ دوسرے خط کے بارے میں سوئس حکام کو لکھ دیا گیا ہے کہ اس کو ایسے سمجھا جائے جیسے وہ خط لکھا ہی نہیں گیا اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات اُسی مرحلے سے شروع کیے جائیں جہاں سے روک دیے گیے تھے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا اس ضمن میں سوئٹزرلینڈ کی ایک لیگل فرم کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں صدر زرداری کے خلاف وزارت قانون نے جو پہلا خط سوئس حکام کو لکھا تھا اُس میں کہا گیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ کھولنے کی صورت میں اس بات کو بھی سامنے رکھا جائے کہ اُنہیں بطور بین الاقومی طور پر بھی استثنیٰ حاصل ہے ۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملات طے ہونے کے بعد قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات ختم کرنے کے لیے اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سوئس حکام کو خط لکھا تھا۔

سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو سوئس حکام کو مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق حکم دیا تھا۔ این آر او عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔