پشاور:سینٹرل جیل میں تصادم، تین قیدی زخمی

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سینٹرل جیل میں دوگروہوں کے درمیان تصادم کے واقعے میں تین قیدی زخمی ہو گئے۔
تصادم کے واقعے کے بعد جیل حکام نے فوج اور پولیس کی اضافی نفری طلب کر کے جیل کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔
اتوار کی دوپہر کو تصادم کا واقعہ پیش آیا لیکن جھگڑے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
جیل میں ذرائع کے مطابق جھگڑے میں اسلحے کا استعمال نہیں ہوا صرف گھونسوں اور لاتوں سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے ہیں۔
سینٹرل جیل پشاور میں فوج تین روز پہلے تعینات کی گئی تھی اور اتوار کے واقعے کے بعد فوج اور پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں نے تصادم میں ملوث قیدیوں کو بیرکوں میں بھیج دیا ہے جبکہ فوجی اہلکاروں نے جیل کی تلاشی بھی لی ہے۔
سینٹرل جیل میں اہم قیدی موجود ہیں جن میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں نشاندہی میں امریکہ کی معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہیں۔

چند روز پہلے پشاور کی سینٹرل جیل کی سکیورٹی میں اچانک اضافہ کر دیا گیا تھا جس کے بارے میں سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی سرگرمی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا میں سینٹرل جیل بنوں اور سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان پر حملوں کے بعد پشاور جیل کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا تھا۔
بنوں جیل سے کوئی 300 اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے 250 کے قریب قیدی شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے فرار ہو گئے تھے۔
حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کی انکوائری کرانے کا وعدہ کیا تھا اور اس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اس واقعے کو پیش آئے کئی ماہ ہو چکے ہیں اور ایک انکوائری رپورٹ بھی مکمل کر لی گئی ہے لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔







