شمالی وزیرستان میں شدید لڑائی، ازبک شدت پسندوں سمیت 33 ہلاک

شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کو شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں پاکستان کی فوج نے مزید دس شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے جس کے بعد گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد تینتس ہو گئی ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جمعرات کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں زیادہ تر ازبک باشندے شامل ہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ فوج کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ شدت پسند ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رہے ہیں جس کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائی کی جانی ہے۔

ملکی اور غیر ملکی خبررساں اداروں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق میر علی کے علاقوں میں شدت پسندوں اور فوج کے درمیان گذشتہ دو دن سے شدید لڑائی جاری ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور فوج نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے بھی بمباری کی ہے۔

قبل ازیں بدھ کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے کم سے کم تیئس افراد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا جبکہ مقامی لوگوں سے متضاد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

مقامی آبادی کی طرف سے متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں
،تصویر کا کیپشنمقامی آبادی کی طرف سے متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے کجوری میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا قافلہ واپس آ رہا تھا کہ ان پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا قافلہ کجوری چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو واپس لا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی بھر پور جوابی کارروائی کی گئی جس میں تیئس شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ عسکری ذرائع کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں تین سکیورٹی اہلکار بھی زحمی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ آج صبح سے علاقے میں تلاشی کا کام جاری ہے۔

تاہم دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گولہ بھاری میں مارے جانے والے بیشتر افراد عام شہری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح میرعلی فوجی کیمپ سے شمالی وزیرستان کے علاقوں موسکی اور ای پی پر بھاری توپ خانے سے شدید گولہ بھاری کی گئی جس سے بازار اور مکانات نشانہ بنے ہیں۔

موسکی گاؤں کے ایک عینی شاہد یوسف خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ میرعلی بازار میں ایک ہوٹل پر گولہ گرا ہے جہاں موجود پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسی علاقے میں ایک اور گولہ ایک مکان پر لگا ہے جس سے خاتون اور ان کے تین بچے مارے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گولہ بھاری کی وجہ سے کل سے لوگ مکانات کے اندر محصور ہیں جس کی وجہ سے لاشیں راستوں اور سڑکوں پر پڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گولہ بھاری کے خوف کے باعث لوگ لاشیں نہیں اٹھا سکتے۔

دریں اثناء خود کو شمالی وزیرستان کے مجاہدین کا ایک ترجمان ظاہر کرنے والے ایک شخص خلیل منصور نے بی بی سی کو فون کرکے دعوی کیا کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائیی میں بڑے پمیانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کاروائی بند نہیں کی گئی تو پھر وہ بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے۔

خیال رہے کہ بدھ کی شام شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کھجوری پر شدت پسندوں کی جانب سے مبینہ خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوا تھا کہ جب اسی روز صبح سے لے کر شام تک علاقے میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔