میران شاہ کے قریب ڈرون حملہ، ’دو ہلاک‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے
،تصویر کا کیپشنکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب امریکی ڈرون طیارے کے میزائل حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ یہ حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میران شاہ سے دو کلومیٹر دور واقع چشمہ پل کے قریب ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیاروں نے پہاڑ پر واقع ایک مکان پر دو میزائل داغے جس سے مکان کو شدید نقصان پہنچا۔

اس حملے میں دو افراد کے مرنے کی اطلاعات ہیں تاہم ان کی قومیت کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں شمالی وزیرستان میں ہی ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود مارے گئے تھے جس کے بعد طالبان نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے تاہم رواں ماہ امریکی ڈرونز نے پہلی بار پاکستان کے بندوبستی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں واقع ایک مدرسے پر ہونے والے اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے جماعتی سطح پر ان حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صوبے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی بھی بند کر رکھی ہے۔

پاکستان سرکاری سطح پر بھی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ یہ ملکی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں اور ان کا استعمال قانونی ہے۔