پولیو کے قطرے پلانا خلافِ شرع نہیں: سمیع الحق

مولانا سمیع الحق کے کئی شاگرد طالبان کی تحریک کا حصہ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنمولانا سمیع الحق کے کئی شاگرد طالبان کی تحریک کا حصہ رہے ہیں

جمیعت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے سربراہ اور دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے حق میں فتویٰ دیا ہے۔

مولانا سمیع الحق نے، جن کے کئی شاگرد طالبان کی تحریک کا حصہ رہے ہیں، اپنے اس فتوے میں والدین کو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ اس مہلک بیماری سے بچاؤ اسلامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

مولانا سمیع الحق کا فتویٰ طالبان کی جانب سے پولیو کے خلاف سامنے آنے والے فتوے کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔

اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کے لیے سی آئی اے کی طرف سے پولیو کی جعلی مہم شروع کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد طالبان نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔

طالبان کے فتوے کے بعد سے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں اضافہ سامنے آیا ہے اور اس دنیا سے اس بیماری کے خاتمے کی کوششوں پر بھی زد پڑی ہے۔

پولیو کے کیسز افغانستان اور نائیجیریا میں بھی سامنے آئے ہیں۔

طالبان نے کئی بار پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ان اہلکاروں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار بھی ان حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔

تیس اکتوبر کی تاریخ کو جاری ہونے والے اس فتوے کے مطابق والدین کو شدت پسندوں کی جانب سے تنبیہ کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی ویکسین کا استعمال کیا جانا جسے طبی ماہرین نے تجویز کیا ہو شریعت کے عین مطابق ہے۔‘

اس فتوے میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’پولیو، خسرہ، ٹیٹنس، ذیابیطس مہلک اور خطرناک بیماریاں ہیں اور بچوں اور نوجوانوں اور حاملہ خواتین کو اس بچایا جانا ضرور ہے اور اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس بارے میں پھیلائے گئے خدشات اور شبہات درست نہیں ہیں۔‘

مولانا سمیع الحق کے مدرسے نے افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی ہوئی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی بھی اسی مدرسے کے طالب علم شمار کئے جاتے ہیں۔