ایکسپریس نیوز کے دفتر پر حملہ، صحافیوں کا احتجاج

فائرنگ کے دوران ایک سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہوگیا
،تصویر کا کیپشنفائرنگ کے دوران ایک سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہوگیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایکسپریس نیوز کے دفتر پردستی بم حملوں سے حملہ کیا گیا۔

صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اس حملے کے خلاف منگل کو ملگ گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کے ایس ایس پی ناصر اقبال کا کہنا ہے کہ انھیں پیر کی شام دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاع ملی۔

ڈئی آئی جی ساوتھ عبدالخالق شیخ کا کہنا ہے کہ یہ دستی بم حملہ نہیں تھا بلکہ کریکر کا دھماکہ تھا جو ٹینس بال سے کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں اس وقت آپریشن جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ کچھ عناصر لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہیں لیکن یہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ پہلے اور دوسرے حملے میں کیا مشابہت ہے۔

فائرنگ کے دوران ایک سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز نے گارڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کچھ مسلح افراد نے دفتر میں اندر داخل ہونے کی کوشش تو انھوں نے مزاحمت کی۔

مسلح افراد نے فائرنگ اور دو دھماکے کیے جو خیال کیا جا رہا ہے کہ دستی بم کے تھے جس سے آس پاس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

قیوم آباد فلائی اور کے قریب واقعے عمارت میں ایکسپریس نیوز، ایکسپریس اردو اخبار اور ایکسپریس ٹرائیبون کے دفاتر موجود ہیں، جہاں بڑی تعداد میں صحافی اور تیکنیکی عملہ فرائض سر انجام دیتا ہے۔

ایک سکیورٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر پانچ سے چھ لوگ سوار تھے جنہوں نے فائرنگ کی۔

ان کا کہنا ہے کہ فلائی اوور سے بھی فائرنگ کی گئی اور اس صورت حال میں لوگ معجزانہ طور پر بچ گئے۔

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کراچی میں ایکسپریس نیوز کے دفتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں آزاد میڈیا کے جذبے اور ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو دبا نہیں سکتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ایکسپریس نیوز کو مزید سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ فلائی اوور سے فائرنگ کی گئی اور پولیس نے ان پر جوابی فائرنگ کی۔ ان کے مطابق پولیس ملزمان کا پتہ لگا رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی نے حملے کی مذمت کی ہے۔