کراچی: اخبار کے دفتر میں توڑ پھوڑ

پاکستان کے شہر کراچی کے جنوبی علاقے لیاری میں ایک اخبار کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، کمپیوٹر اور ڈیٹا کو چوری کیا گیا جبکہ باقی بچے کھچے ڈیٹا اور کاغذات کو نذرآتش کردیا گیا۔
لیاری کے علاقے سے شائع ہونے والے اخبار کا نام روزنامہ ’توار‘ ہے جو بلوچی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی آواز کے ہیں۔ یہ اخبار اردو زبان میں شائع ہوتا ہے اور بلوچستان کی نمائندگی کرتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صبح تین اور چار بجے کے درمیان چند گاڑیوں میں سادے لباس میں کچھ افراد آئے، انھوں نے اخبار کے دفتر کے تالے توڑے، کمپیوٹرز اپنے ساتھ لے گئے جب کہ باقی کاغذات اور دیگر ڈیٹا کو نذر آتش کر دیا۔
ایس ایس پی سٹی جمال الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تردید کی اور کہا کہ فورس کارروائی وردی میں کرتی ہے اور کسی کی جانب سے اب تک ایسے کسی واقعے کی رپورٹ بھی نہیں کرائی گئی ہے۔
صحافی رہنما مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اب تک کسی گروہ نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی کے واقعات کو نظر میں رکھتے ہوئے بظاہر یہ سرکاری اداروں میں سے کسی ایک کی کارروائی نظر آ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اخبار کی پالیسی اور لاپتہ بلوچوں کے لیے اخبار نے جو مہم شروع کر رکھی تھی وہ ہی شاید ان لوگوں کے لیے وجہ تکلیف بنی جنہوں نے یہ کارروائی کی۔
مظہر عباس نے کہا کہ یہ یقیناً آزادیِ اظہار کا مسئلہ بنتا ہے اور آزادیِ اظہار کی راہ میں رکاوٹ ہے اور اگر کسی کو سرکاری ہو یا غیر سرکاری، اس کے لیے یہ طریقۂ کار نہیں جسے اپنایا گیا۔
کوئٹہ سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ بلوچستان ایکسپریس کے مدیر صدیق بلوچ کا کہنا ہے کہ توار اخبار پر کی جانے والی کارروائی کسی کے خلاف نہیں بلکہ آزادیِ اظہار پر حملہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ یہ چھوٹا سا اخبار ہے جس میں بیس سے تیس افراد کام کررہے تھے اور اخبار پر حملے کے نتیجے میں وہ تمام افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور صحافیوں کی تنظیموں کو چاہیے کہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔
روزنامہ توار کے مدیر اور دیگر عہدےداروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
اطلاعات ہیں کہ روزنامہ توار کو اس واقعے سے پہلے بھی دھمکیوں کا سامنا رہا ہے اور اسی باعث توار کا دفتر شہر میں مختلف مقامات پر منتقل ہوتا رہا ہے۔







