وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی گئی

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے 24 ارکان نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایوان میں غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر سینیٹ سیکریٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروائی ہے۔
اس تحریک استحقاق پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کے علاوہ حزب اختلاف میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی دستخط کیے ہیں تاہم اس میں متحدہ قومی موومنٹ شامل نہیں ہے۔
اس تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر زاہد خان کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ گُذشتہ پانچ ماہ کے دوران صوبہ خیبر پختون خوا میں شدت پسندی کے 136 واقعات میں 120 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تحریک استحقاق میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سے پیش کیے گئے اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں ہیں کیونکہ پشاور میں چرچ پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ قصہ خوانی بازار، چارسدہ روڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 187 ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد 358 ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسی تناظر میں سینیٹر طلحہ محمود کی طرف سے پوچھے گئے اسی نوعیت کے سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 498 ہے۔
جمعے کو بھی حزب اختلاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے سینیٹ کا اجلاس نہیں ہوا اور یہ اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کا کہنا ہے کہ تحریک استحقاق کو پیر کے روز اجلاس کے دوران بھی پیش کیا جائے گا۔ طریقہ کار کے مطابق تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دی جاتی ہے جس میں جس پر الزام لگایا گیا ہو اُس کا موقف بھی سُنا جاتا ہے جس کے بعد اسحقاق کمیٹی اپنی سفارشات ایوان میں پیش کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







