’چوہدری نثار کے خلاف تحریک استحقاق لائیں گے‘

پاکستان کے ایوانِ بالا میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سینیٹ میں اپوزیشن کے ارکان سے اپنے رویے پر معذرت نہ کی تو اُن کے خلاف تحریکِ استحقاق لائی جائے گی۔
بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی اعتزاز احسن اور حزب اختلاف کے دیگر سینیٹرز سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
وزیر داخلہ کے بقول گُذشتہ پانچ ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے 136 واقعات ہوئے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 120 تھی۔
اس پر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ ایوان میں غلط اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں اور اتنے افراد تو پشاور میں چرچ پر ہونے والے خودکش حملے اور ملازمین کی بس پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو بھی سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن کی جماعتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے جاری نہیں رہ سکا۔ اجلاس کے دورا ن دو مرتبہ کورم کی کمی کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد اجلاس جمعے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جبکہ اپوزیشن کی ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان اجلاس میں موجود رہے۔
چوہدری اعتزاز احسن نے جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے حکومت اور پارلیمنٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے ارکان بھی چوہدری نثار سے نالاں ہیں اور وہ بھی اپوزیشن کے بائیکاٹ سے خوش ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے جس شخص کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا ہے اُس کے اعداد و شمار ہی غلط ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اپوزیشن ارکان کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وزیر داخلہ ایوان میں اپنے رویے کی معذرت کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے اجلاس کے ایجنڈے میں قیمیتوں میں اضافہ، ملک میں امن و امان کی صورت حال اور آئین کے ارٹیکل چھ کو زیر بحث لانا تھا جبکہ حکومت اس سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ رواں اجلاس میں حکومت اپوزیشن کے سوالات سے بچنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کو بھاگنے نہیں دیں گی۔







