کوئٹہ: بم حملے میں چار افراد ہلاک، بارہ زخمی

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم ایک سائیکل پر نصب کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنپولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم ایک سائیکل پر نصب کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کی شام ڈبل روڈ نامی شاہراہ کے قریب دو بم دھماکوں سے چار افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق یہ دھماکہ ایک کاروباری علاقے میں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ ایک تجارتی مرکز کے پارکنگ ایریا میں ہوا۔ دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن زخمحوں کی مدد کو وہاں پہنچے۔

ذرائع ابلاغ میں مقامی حکام کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ دوسرا حملہ بم دھماکہ نہیں بلکہ ایک سی این جی سلینڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم ایک سائیکل پر نصب کیا گیا تھا اور اس سے قریب کھڑی گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہت عرصے سے خراب ہے۔ شہر میں متعدد بار شیعہ برادری کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی سرحد سے قربت کے باعث شہر میں شدت پسندوں کی جانب کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔

دریں اثنا بلوچستان میں چند قوم پرست تنظیمیں ریاستِ پاکستان کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ چودہ اکتوبر کو صوبائی وزیر میر ثناء اللہ زہری کے قافلے پر کوئٹہ سےخضدار جاتے ہوئے نامعلوم افراد نےسوراب کے قریب بم دھماکے سے حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اکتیس اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اخترمینگل کے گھر پردستی بموں سے حملہ کیا گیا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے ایک اور مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔ بلوچستان میں متعدد افراد کے اغوا ہو جانے اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ چونکہ الزام ہے کہ ان افراد کا اغوا پاکستان کی ریاستی انٹیلی جنس ایجنسیاں صوبے میں علیحدگی کی تحریک کو روکنے کے لیے کرتی ہیں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان افراد کی بازیابی کے لیے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔