’پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گردی کا مرکز نہ بنے‘

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو وہ ’دہشت گردی کا مرکز‘ نہ بنے۔
اس موقع پر منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر سے متعلق معاملات کو حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور بھارت کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہو ہی نہیں سکتا‘۔
انھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ جموں اور کشمیر سمیت تمام مسائل شملہ معاہدے کے تحت دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیر کےمتنازع علاقے میں رواں ہفتے جھڑپوں کے پس منظر میں نواز شریف اور منموہن سنگھ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اہم ملاقات متوقع ہے۔
منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جس کے لیے سلامتی کونسل کو موجودہ سیاسی تناظر میں ڈھالنا ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو دنیا سے غربت کے خاتمے کو ترجیح دینا ہو گی۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم اپنے پاکستانی منصب کے ساتھ اتوار کو ملاقات کریں گے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تین سال کے دوران یہ پہلی ملاقات ہوگی۔
اس سے قبل منموہن سنگھ نے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ خطے کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کی وجہ پاکستان ہے جو ’اب بھی خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے‘۔
منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ وہ میاں نواز شریف سے ملاقات کر تو لیں گے مگر اس ملاقات سے بہت زیادہ امید نہیں لگانی چاہیے۔
بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا بازار بہت سرگرم ہے جس کی وجہ سے خطہ مشکلات کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے قیمتی وسائل اسلحے کی جنگ میں ضائع کردیے جبکہ یہی وسائل لوگوں کی معاشی ابتری کے لیے استعمال کیے جاسکتے تھے۔
نواز شریف نے کہا تھا ہم بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کےلیے تیار ہیں تاکہ بامعنی مذاکرات کیے جاسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ’نئی ابتدا‘ کے لیے تیار ہیں اور سنہ 1999 کے لاہور معاہدے کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کرنا چاہییں۔







