چرچ پر حملہ: پاکستان کے اخبارات کا جائزہ

پشاور میں اتوار کو چرچ میں اندوہناک خودکش دھماکے کی خبریں پاکستان کے تمام اخبارات کے صفحہ اول پر شائع کی گئیں ہیں۔ ان دھماکوں کی گونج نے ہر ایک شخص کے ذہن میں ایک سوال کو جنم دیا ہے اور ہر زبان پر ہے کہ کیا حملہ آور ’جناح کے پاکستان‘ کو ختم کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔‘
قومی اخبارات نے خبروں کے علاوہ اس واقعہ کو اپنے ادارتی صفحات میں بھی جگہ دی ہے اور تمام بڑے بڑے اخبارات نے اس پر اداریے لکھے ہیں۔
انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے ’جان لیوا نظریہ‘ میں لکھا ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے نظریات اور اصولوں سے کتنا دور ہوگیا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ مسحیوں پر حملہ اقلیتوں کے خلاف ایک نیا فرنٹ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن دراصل یہ انتہا پسند نظریات کا قدرتی عمل ہے۔
ایک دوسرے انگریزی اخبار دی نیوز نے اپنے اداریے میں حکمرانوں کو نشانہ بناتے کہا ہے کہ ان کے سر اجتماعی شرم سے جھک گئے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسا ملک بن گیا ہے جہاں مذہب، نسل یا جنس وہ واضح فرق بن گیا ہے جس کی بنیاد پر کسی کو جینے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکثر اخبارات نے بڑی بڑی شہ سرخیوں کے علاوہ زخمی لڑکیوں اور بین کرتی عورتوں کی تصاویر کو بھی جگہ دی ہے۔ اس کے علاوہ لندن میں موجود وزیرِ اعظم نواز شریف کے بیان کو صفحۂ اول پر جگہ دی ہے کہ ’شدت پسندوں کا یہ رویہ مذاکرات کے لیے موافق نہیں۔‘
پشاور کے مقامی اخبارات نے اضافی رنگین صفحات شائع کیے ہیں جن میں اس شہر میں جاری دہشت گردی پر تفصیلی نظر ڈالی گئی ہے۔
اردو اخبار ایکسپریس نے اداریے میں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے۔ اس نے گرجا گھر پر حملے کی ذمے داری صوبائی حکومت، سکیورٹی اداروں اور پولیس پر ڈالی ہے۔
چرچ کے ایک پادری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گرجا گھر میں سکیورٹی کو ناکافی قرار دیا تھا۔
روزنامہ جنگ نے مذاکرات کے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔







