بلوچستان ہلاکتوں پر چیف جسٹس کا از خود نوٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس از خود مقدمے کی سماعت پندرہ اگست کو کوئٹہ رجسٹری میں کریں گے
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس از خود مقدمے کی سماعت پندرہ اگست کو کوئٹہ رجسٹری میں کریں گے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رجسٹرار کے نوٹ پر ہفتے کو صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر از خود نوٹس لے لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والوں کی ہلاکتوں پر یہ از خود نوٹس لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس از خود مقدمے کی سماعت پندرہ اگست کو کوئٹہ رجسٹری میں کریں گے۔

<link type="page"><caption> ’ملکی استحکام ٹینکوں سے نہیں ہوتا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/11/121105_chief_justice_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

چیف جسٹس نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ازخود نوٹس کے مقدمے کے علاوہ بلوچستان میں امن و امان کا مقدمہ، آئینی پٹیشن نمبر 2010/77 اور دیگر متعلقہ مقدمے کوئٹہ رجسٹری میں پندرہ اگست کے لیے لگائے جائیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم پچپن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے یہ بات بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی جہاں وہ کوئٹہ میں حالیہ حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے اظہار ِ ہمدردی کے لیے گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا ’کوئٹہ ہماری شناخت ہے اور ہم اسے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔‘

یاد رہے کہ وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ تیس اگست تک انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دیں۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق نواز شریف نے اسلام آباد میں چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ملاقات کی جس میں ملک میں جاری حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اس سے پہلے حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کا کام شروع کیا تھا۔

حکومت سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی بنیاد پر پالیسی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاہم وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اصرار پر وزیراعظم نواز شریف نے پالیسی کا مسودہ پہلے تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعض سرکاری افسران نے موجودہ حکومت کو اس عمل کے ابتدائی دنوں میں ’قومی سلامتی پالیسی‘ کے نام پر ایک دستاویز تیار کر کے دیا تھا جسے چوہدری نثار علی خان نے پرانا اور غیر متعلقہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔