بلوچستان میں شدت پسندی کے اہم واقعات
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ عرصے میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے چند اہم واقعات پر ایک نظر۔
اگست دو ہزار تیرہ
دس اگست: بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں دس افراد ہلاک ہوگئے۔ سنیچر کو پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں حکومت کی حامی ایک قبائلی شخصیت بھی شامل ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں بم دھماکے اور فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔
نو اگست: کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کے علاقے کی مسجد فاروقیہ پر مسلح افراد نے اُس وقت فائرنگ شروع کر دی جب لوگ عید کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔
آٹھ اگست: کوئٹہ کی پولیس لائن میں نمازِ جنازہ کے دوران خودکش دھماکے میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں سمیت تیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے۔
سات اگست: بلوچستان کے شہر مستونگ میں خواتین کے ایک شاپنگ سینٹر میں دھماکے سے ایک بچی ہلاک اور آٹھ سے زائد خواتین زخمی ہو گئیں۔
چھ اگست: صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والے 13 مسافروں کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
جولائی دو ہزار تیرہ

تیس جولائی: بلوچستان کے علاقے پشین کے پولیس حکام کے مطابق انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔
اٹھائیس جولائی: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ایک مبینہ خود کش حملہ آور کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ستائیس جولائی: بلوچستان کے ضلع گوارد کے علاقے سن سر میں کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد کے حملے میں سات اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔
بائیس جولائی: کوئٹہ میں ٹارکٹ کلنگ کے ایک واقعے میں شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
سولہ جولائی: کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شیعہ ہزارہ قبیلے کے چار افراد سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
بارہ جولائی: بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کے ترجمان جان محمد بلیدی کے بھتیجے کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
جون دو ہزار تیرہ

تیس جون: کوئٹہ کے مغربی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں دھماکے سے کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے۔
چھبیس جون: بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں دو ایف سی کے اہلکار ہلاک ہو گئے۔
سولہ جون: صوبہ بلوچستان کے ضلع قعلہ سیف اللہ میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے
پندرہ جون: کوئٹہ میں دو دھماکوں میں ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور طالبات سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سمیت پچیس سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
پندرہ جون کو ایک دوسرے واقعہ میں بلوچستان کے علاقے زیارت میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی کے قریب نصب چار بم پھٹنے سے عمارت کی دیواروں کے علاوہ تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔
چھ جون: کوئٹہ میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے۔







