کوئٹہ: تیس سے زائد مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران تیس سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ان گرفتاریوں کے دوران دھماکہ خیز مواد بھی بر آمد کر لیا گیا۔
فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر فرنٹیئر کور کے انٹیلی جنس یونٹ نے پشتون آباد میں ترین روڈ پر ایک ٹیوٹا کرولا گاڑی سے 350 کلوگرام پوٹاشیم کلورائیڈ برآمد کر کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ گرفتار شخص کی نشاندہی پر مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا۔
ترجمان کے مطابق اس گھر سے تلاشی کے دوران پندرہ واکی ٹاکی سیٹ، نو ڈینویٹر اور دھماکوں میں استعمال ہونے والے تار برآمد کر نے کے علاوہ دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔انھوں نے کہا کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے۔
ایک اور کارروائی میں سریاب کے علاقے سے اٹھائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کوئٹہ پولیس اور فرنٹیئر کور کی بھاری نفری نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سریاب کے علاقے کلی جیو میں کارروائی کی اور وہاں سے ان مشتبہ افراد کوگرفتار کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ گرفتار افراد سے کالعدم تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوئٹہ سے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے سریاب میں کلی جیو سے ہونے والی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد ان کے پارٹی کے کارکن ہیں۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر پارٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے مظاہرے میں پارٹی کے مر کزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔آغا حسن بلوچ کا کہنا تھا حکومت پارٹی کے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے۔







